اب وقت آ گیا ہے! برطانیہ عمران خان کی رہائی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے،سابق برطانوی وزیراعظم

برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو عمران خان کی رہائی کے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔انھوں نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کے لیے ایک کالم لکھا ہے،

جس کا عنوان ہے:’کرکٹ کے لیجنڈ عمران خان پاکستان میں جیل کی چھوٹی سی کوٹھڑی میں بتدریج موت کی جانب دھکیلے جا رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ ان کی رہائی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

ڈیلی میل میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں بورس جانسن نے الزام لگایا ہے کہ 73 سالہ عمران خان کو مسلسل کئی کئی دن تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔ وہ مناسب ورزش بھی نہیں کر سکتے کیونکہ بیت الخلا سمیت اس کمرے کا سائز صرف چھ فٹ ضرب آٹھ فٹ ہے۔

سابق برطانوی وزیر اعظم نے یہ الزام بھی لگایا کہ عمران خان کی ’کوٹھڑی میں کوئی کھڑکی نہیں ہے اور بعض اوقات روشنیاں بھی بند کر دی جاتی ہیں، جس کے باعث وہ اندھیرے میں بیٹھے رہتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ فروری میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے مقرر کیے گئے ’فرینڈ آف کورٹ‘ بیرسٹر سلمان صفدر نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے ملاقات کی تھی اور اپنی رپورٹ میں درج کیا تھا کہ عمران خان نے جیل میں اپنی مصروفیات، مشکلات اور سہولیات سے متعلق کیا بتایا اور خود انھوں نے کیا دیکھا۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر کو بتایا تھا کہ انھیں جیل میں ورزش کے لیے سامان دیا گیا ہے، دو بار احاطے میں چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے اور دن اور رات کے وقت ہوا اور روشنی کا مناسب انتظام ہے۔

اپنے کالم میں بورس جانسن نے لکھا کہ جن حالات میں عمران خان کو جیل میں رکھا جا رہا ہے، اس کی اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد مذمت کر چکے ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل تشویش کا اظہار کر چکی ہے اور پاکستان کی سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ قیدی کو مناسب طبی سہولتوں تک رسائی نہیں دی جا رہی۔

واضح رہے کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے اگست میں سپریم کورٹ کو رپورٹ جمع کرائی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی ہر منگل کو جیل قوانین کے تحت باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور اب تک ایسی 84 ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر بھی 10 فروری اور چار اپریل 2026 کو سابق وزیر اعظم سے ملاقات کر چکے ہیں۔

21 اگست کو پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں لکھا تھا کہ عمران خان کا اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں طبی معائنہ کرایا گیا جس کے مطابق ’وہ صحت مند پائے گئے۔‘

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ’پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘

ڈیل میل میں اپنے کالم میں سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے لکھا کہ عمران خان کے خلاف وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد متعدد مقدمات قائم کیے گئے جن میں سے اکثر ختم ہو گئے، سوائے اس الزام کے کہ ان کی حکومت نے برطانوی حکومت سے ملنے والی کچھ رقم ایک مخصوص پراپرٹی ڈیولپر کی جانب منتقل کی، جس نے بعد ازاں ایک ایسی یونیورسٹی کو بڑی رقم عطیہ کی جس کے عمران خان اور ان کی اہلیہ سے روابط تھے۔

بورس جانسن نے مزید لکھا کہ اگر عمران خان کے خلاف مقدمات موجود بھی ہوں تو انھیں ایسے حالات میں رکھنے کا جواز نہیں بنتا اور ان کی اپیل کی جلد اور آزادانہ سماعت ہونی چاہیے۔

اپنے کالم میں بورس جانسن نے عمران خان کی بطور وزیرِ اعظم بعض پالیسیوں، خصوصاً ماحولیات اور خواتین کی تعلیم سے متعلق اقدامات کی تعریف کی، تاہم یہ بھی کہا کہ وہ عمران خان کے تمام سیاسی مؤقف سے متفق نہیں تھے، جن میں روس اور طالبان سے متعلق بعض آرا بھی شامل ہیں۔

سابق برطانوی وزیرِ اعظم نے لکھا کہ عمران خان کی صحت خراب ہو رہی ہے، ان کی رہائی کی کوئی واضح امید نظر نہیں آتی اور ان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم کو بھی جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔

بورس جانسن کے مطابق پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر عمران خان رہا ہوئے تو وہ عوامی حمایت کے سبب دوبارہ سیاسی طور پر مضبوط ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے برطانوی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے معاملے پر لندن نے بہت کم آواز اٹھائی ہے، حالانکہ عمران خان کے برطانیہ کے ساتھ گہرے تعلقات رہے ہیں اور ان کے لاکھوں مداح برطانیہ میں بھی موجود ہیں۔کالم میں بورس جانسن نے لکھا کہ پاکستان کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ عمران خان کو رہا کیا جائے یا اپیل کے فیصلے تک گھر میں نظر بند رکھا جائے۔

انھوں نے لکھا: ’عمران خان کو تین برس سے اذیت میں دیکھنے کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہچکچاہٹ ترک کریں، اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور ان کی رہائی کا مطالبہ کریں۔سابق برطانوی وزیر اعظم نے اپنے کالم کا اختتام ان الفاظ میں کیا: ’اس کوٹھڑی کا دروازہ کھولیں اور عمران خان کو آزاد کریں۔‘

 

 

Read Previous

راولپنڈی :معمولی تلخ کلامی پر فائرنگ، نوجوان جاں بحق

Read Next

سی ٹی ڈی کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز،23دہشت گرد پکڑے گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular