نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا، جس میں پٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز کے مارجن میں نظرثانی کی منظوری دے دی گئی۔
ای سی سی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ سمیت متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر غور کیا گیا اور موٹر اسپرٹ (ایم ایس) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر ڈیلرز کے مارجن میں نظرثانی سے متعلق معاملے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
ای سی سی کی منظوری کےبعد ڈیلرز مارجن ایک روپیہ 34 پیسے اضافے کے ساتھ فی لیٹر 9روپے 98 پیسے ہوگیا ہے۔ اس کے قبل ڈیلرز کا فی لیٹر مارجن 8 روپے 64 پیسے تھا۔وائس چیئرمین آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی نے ڈیلرز مارجن میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا شکریہ ادا کیا ہے۔
یاد رہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کل یعنی اگست 15 کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔ایسویسی ایشن نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں “ہڑتال کی اسی دھمکی” کو ڈیلرز مارجن میں اضافے کی بینادی وجہ قرار دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونے والے تلخ مذاکرات کے بعد پیٹرولیم وزیر نے ٹیلی فون پر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ وزیراعظم نے ڈیلرز کے مارجن میں 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
ایسوی ایشن کے مطابق روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے حوالے سے بھی وزیرِ اعظم کو نئی سمری بھجوائی گئی ہے جس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال میں کمی کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے کی طرح 7 یا 15 روز پر متعین کی جا سکتی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق ڈیلرز کے 8 فیصد مارجن کے مطالبے پر ایک مشترکہ کمیٹی بنائی گئی ہے جو 30 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ “ہم نے حکومت کی یقین دہانیوں پر ہفتے کو ہونے والی ہڑتال ملتوی کی ہے اور جب تک ہمارے تمام مطالبات منظور نہیں ہوجاتے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔”
