نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
واشنگٹن(فرنٹیئرنیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاسداران انقلاب سے بیک چینل مذاکرات کی تصدیق کر دی۔امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دستبردار ہونا ہوگا۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں پہلی مرتبہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے حکام کے ساتھ بیک چینل کے ذریعے براہِ راست امن مذاکرات کی بھی تصدیق کی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ’’سفید جھنڈا لہرانا‘‘ چاہیے تاہم ان کا کہنا تھا کہ امن کے لیے اب بھی وقت موجود ہے اور وہ مذاکرات کے لیے کسی مقررہ ڈیڈ لائن کے پابند نہیں۔ ان کے بقول، ’’میں جلدی میں نہیں ہوں‘‘ اور بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکی حکام ایرانی سیاسی قیادت اور روایتی ثالثوں کو نظرانداز کرتے ہوئے آئی آر جی سی کے عہدیداروں سے بیک چینل کے ذریعے رابطے میں ہیں۔ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ اچھے ’’پوکر پلیئر‘‘ ہیں تاہم ان کے مطابق ایرانی قیادت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
ٹرمپ نے اس تاثر کو بھی مسترد کردیا کہ امریکی پالیسی نومبر کے وسط مدتی انتخابات یا 2028 کے صدارتی انتخابات سے متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مڈٹرم انتخابات ان کی سوچ کا حصہ نہیں ہیں اور ایران کے حوالے سے ان کے فیصلے قومی سلامتی اور جوہری خطرے کو مدنظر رکھ کر کیے جارہے ہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے مستقبل پر اب بھی شدید اختلافات برقرار ہیں، حالیہ دنوں میں ایرانی ذرائع نے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور 60 روزہ جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے حوالے سے بھی کسی اتفاقِ رائے کی تردید کی تھی۔
ٹرمپ نے ایران سے متعلق مذاکرات میں کردار ادا کرنے والے ملک عمان کو بھی سخت تنبیہ کی اور کہا کہ اگر عمان مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بنا تو امریکا سخت کارروائی کرسکتا ہے، ان کا یہ بیان خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے دوران سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر نے اسرائیل کے حوالے سے بھی کہا کہ وہ ملکی انتخابات سے خود کو دور رکھنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں تاہم انہوں نے کسی امیدوار کی حمایت کا امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں حملے نہیں کرنے چاہئیں، جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے حماس کے ساتھ اپنے روابط موجود ہیں اور تنظیم اپنے ہتھیار چھوڑنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ حماس کے ساتھ امن کے لیے بھی کام کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ تنظیم غیر مسلح ہونے پر آمادہ ہو۔
ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر پڑنے والے ممکنہ دباؤ کے خدشات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اب تک اپنے ہتھیاروں کا بہت کم حصہ استعمال کیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود ٹرمپ کا مذاکرات کے لیے دروازہ کھلا رکھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سخت دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب براہِ راست رابطوں کے ذریعے کسی ممکنہ سفارتی حل کی گنجائش بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
