نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی،ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ اچھا ہے، یہ بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ معلوم کرنے دیں کہ اس وقت ملک کا ماحول کیا ہے، صوبوں کے معاملے کو بحث پر چھوڑ دینا چاہیے۔
جے یو آئی سربراہ نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا فرض ہے کہ حکومتی کمزوریوں کی نشاندہی کرے، صوبوں پر بحث کرنے دیں، اس میں اصولی موقف اور عملی حیثیت کیا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ حمایت یا مخالفت کی لکیر کھینچ دینا، ایسی صحافت نے ملکی مسائل کو بگاڑا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے نجی اسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران حکم دیا کہ عمران خان کو سخت سکیورٹی میں اسپتال منتقل کیا جائے اور اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
عدالتی حکم کے مطابق اسپتال میں عمران خان کے ہمراہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمی خان بھی ہونگے۔اسپتال کے اخراجات کے حوالے سے عدالت نے کہا کہ اخراجات عمران خان کی فیملی خود برداشت کرے گی جبکہ میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائیگی۔اسپتال میں قیام کی مدت پر عدالت نے کہا کہ عمران خان آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہیں گے۔
یاد رہے کہ عدالت نے سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کی ہے جس کا مطلب ہے کہ عمران خان تقریبا ایک مہنیہ شفا انٹرنیشل اسپتال رہیں گے۔بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے، جس نے عمران خان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا۔دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حکم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو نوٹس ہی جاری نہیں کیا گیا، تاہم عدالت نے حکومت کا اعتراض بھی حکم نامے کا حصہ بناتے ہوئے سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ عمران خان کے علاج کی رپورٹس پبلک نہ کرنے اور ان کو سیاست کیلئے استعمال نہ کیے جانے کی گارنٹی کون دے گا؟ جس پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے یقین دہانی کرائی کہ میڈیکل رپورٹس ڈاکٹرز اور عمران خان کی فیملی کا معاملہ ہے، پارٹی ان کو سیاست کیلئے استعمال نہیں کرے گی۔جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ ایک بات طے کر لیں کہ عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کرے گی، ملاقاتوں کے بعد باہر آ کر سیاست نہ کریں۔سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی مکمل تفصیل طلب کیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کتنے مقدمات میں انڈر ٹرائل قیدی ہیں، کتنے کیسز میں سزا یافتہ ہیں، اور کتنے مقدمات میں ان کی سزا معطل ہو چکی ہے، مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔واضح رہے کہ عمران خان کے وکیل خالد یوسف ایڈووکیٹ نے ہم نیوز کو بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف 200 سے زائد مقدمات درج ہیں۔عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جو بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دی۔
سائفر کیس میں 10 سال قید کی سزا کو بھی ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا ، اس کے علاوہ نکاح کیس میں 7 سال سزا ہوئی تھی جس میں وہ اور ان کی اہلیہ بری ہو گئے تھے۔ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس ٹو میں بھی احتساب عدالتوں کی جانب سے سزائیں سنائی گئیں، جن کے خلاف اپیلیں اور سزاں کی معطلی کی کارروائیاں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ عمران خان کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جو مواد دیا گیا وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے، آئندہ سماعت سے قبل تمام ریکارڈ جمع کرایا جائے، ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بہنوں کی ملاقات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہو گی۔
اس پر جسٹس شاہد نے کہا کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں ،ان کا بنیادی حق ہے، ریاست کا کام نہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرے۔جسٹس شاہد نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ بہنوں کی تین سال میں 48 ملاقاتیں کروائی گئی ہیں۔
اس پر عدالت نے عمران خان سے بہنوں کی ملاقاتوں کی تفصیلات اور بچوں سے بات کروانے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔بینچ نے اڈیالہ جیل حکام سے عمران خان سے گزشتہ تین سال کی ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کیوں ہوئی؟۔عظمی بخاری کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا عمران خان کا بلڈ کلاٹ کیوں ہوا اس کی وجہ سامنے آنی چاہیے، 1979 میں جو کچھ ہوا، نہیں چاہتے دوبارہ ہو۔عدالت نے کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل حکام کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا۔
