حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کامیاب، مشترکہ اعلامیے پر اتفاق

اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے تناظر میں ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے، حکومت اور اپوزیشن نے مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وقفہ فریقین کو آپس میں مشاورت کرنے کے لیے کیا گیا تھا جس دوران حکومت اور اپوزیشن کے وفود نے علیحدگی میں آپس میں مشاورت کی۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتی وفد نے اب تک کی پیش رفت سے وزیراعظم کو آگاہ کیا جبکہ اپوزیشن کے وفد نے بھی اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے رابطہ کرکے تفصیل سے آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کا مذاکرات سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر اتفاق ہو گیا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے فریقین کو مشترکہ اعلامیے پر قائل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور رہنما اسد قیصر کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکراتی وفود اپنے اپنے تحریری ڈرافٹ تیار کر رہے ہیں، جبکہ مذاکرات کا سلسلہ مزید جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی کال واپس لیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔مذاکراتی ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی کال واپس لینے کی صورت میں اپوزیشن کے دیگر مطالبات پر بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مزید بات چیت ہوگی۔

واضح رہے کہ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے ہیں جنہوں نے گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کو ‘خوشگوار’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “آج بھی امید ہے کہ تمام فریقین خوشگوار ماحول میں مذکرات کو آگے بڑھائیں گے۔”

اجلاس میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری شریک ہیں جبکہ اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی بھی شریک ہیں۔

قبل ازیں مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے پالیمینٹ ہاؤس پہنچنے پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ آج کا دن پاکستانی قوم کے لیے اہم ہے، قوم ہمارے ساتھ کھڑی ہے اور ہم اس کا اعتماد اور طاقت لے کر یہاں عقل کی بات کرنے آئے ہیں اور قوم کی طاقت کو ریاست کی طاقت بنانے آئے ہیں۔

مطالبات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم بنیادی مطالبات ان کے سامنے کل بھی رکھ چکے ہیں اور آج بھی رکھیں گے۔ ہم اسیران کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے کسی طرح کا کمپرومائز نہیں کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کا بنیادی مطالبہ عمران خان تک رسائی ہے اور وہ اس ملک میں شرافت اور آئین و انصاف کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے مطالبات منظور نہ کیے جانے کی صورت میں ان کا کہنا تھا کہ “اگر یہ نہیں مانتے تو پھر ہم آخری دم تک پاکستانی قوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ “پاکستانی قوم حق رکھتی ہے اس دھرتی پر چلنے کا اور اپنی آواز بلند کرنے کا اور ہم اس حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ عوام عمران خان کی رہائی اور اس ملک میں انصاف دیکھنا چاہتے ہیں۔ “قوم چاہتی ہے کہ ہمارے تمام اسیران بالخوص ہماری خواتین ڈاکٹر یاسمین راشد، بشریٰ بی بی، عمران خان کی تینوں بہنیں، فلک بی بی، صنم بی بی، عالیہ حمزہ، ان سب کو ریلیف ملے۔”مذاکرات کا پہلا دور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت گزشتہ روز ہوا تھا جسے فریقین نے ‘مثبت’ قرار دیتے ہوئے ‘اچھے نتیجے’ کی امید ظاہر کی تھی۔

ذرائع کے مطابق اس دوران دونوں جانب سے مطالبات پیش کیے گئے۔ پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کو اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے اور انہیں اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد نے پی ٹی آئی کے مطالبات کی منظوری کو 4 اکتوبر کو اناؤنس کیے گئے مارچ کو ‘منسوخ یا ملتوی’ کرنے سے مشروط کیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے عمران خان سے متعلق عدالتی حکم پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کرائی۔تاہم اطراف کے نمائندوں نے ان کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اجلاس کی تفصیل راز میں رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

 

Read Previous

گورنر راج اور ایمرجنسی آئینی ہتھیار ہیں جنہیں استعمال کیا جا سکتا ہے، بلاول بھٹوزرداری

Read Next

تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے موجودہ مذاکرات کو ماننے سے ہی انکار کر دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular