نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
سوات: تھانہ کبل کے مرکزی دروازے کے قریب ہونے والے دھماکے میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت 7 افراد شہید جبکہ 18 زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے تحت دھماکا خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے، تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ جائے وقوعہ پر پہنچ کر دھماکے کی نوعیت کا تعین کر رہا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں تھانے کے گیٹ کو جزوی نقصان بھی پہنچا۔
ڈی پی او سوات محمد عمر خان کے مطابق خودکش حملہ آور کا سر جائے وقوعہ سے مل گیا ہے، جبکہ ابتدائی تحقیقات میں حملہ آور کے افغان شہری ہونے کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق ضلع سوات کے تھانہ کبل کے مرکزی دروازے کے سامنے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے خودکش حملہ کیا، جس میں پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے۔ تمام زخمیوں اور شہداء کو سنٹرل ہسپتال سوات منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او سوات عمر خان کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے، جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر ممکنہ سہولت کاروں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او سوات نے کہا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سوات کے علاقے کبل میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا سے طلب کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ نے دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
محمد سہیل آفریدی نے دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے عظیم قربانیاں دے رہی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ امن دشمن عناصر کو اپنے مذموم عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوات کے تھانہ کبل کے قریب ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
محسن نقوی نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہادر پولیس جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر داخل ہونے سے روکا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اپنی زندگیاں قربان کر کے دوسروں کی زندگیاں بچانے والے پولیس اہلکاروں نے فرض شناسی اور بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو سلام پیش کیا،محسن نقوی نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔
