عدالتی تقرریوں پر آئینی تعطل: کیا صدرِ مملکت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات روک سکتے ہیں؟

تحریر: حافظ احسان احمد کھوکھر
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان
ماہر آئینی و بین الاقوامی قانون

پاکستان اس وقت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے ایک غیر معمولی آئینی صورتحال سے دوچار ہے۔ یہ معاملہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے 20 اور 21 جولائی 2026ء کو منعقدہ اجلاسوں میں کی گئی سفارشات کے بعد سامنے آیا، جن میں مختلف ہائی کورٹس کے لیے 19 ایڈیشنل ججوں کی تقرری، پشاور ہائی کورٹ کے چار ججوں کی مستقلی، لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کی توثیق اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی سفارش کی گئی۔ یہ سفارشات وزیراعظم آفس کے ذریعے صدرِ مملکت کو باقاعدہ ارسال کر دی گئیں، تاہم پندرہ روز سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان کی توثیق یا منظوری نہیں دی گئی۔
یہ آئینی تعطل ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا صدرِ مملکت کو آئین کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات کو روک دیں، غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دیں یا انہیں مسترد کر دیں؟ میری مؤدبانہ رائے میں اس سوال کا جواب آئین کی کسی ایک شق کو الگ تھلگ پڑھنے میں نہیں بلکہ پورے آئین کو ایک مربوط اور ہم آہنگ دستاویز کے طور پر سمجھنے میں مضمر ہے۔
اٹھارویں اور انیسویں آئینی ترامیم کے بعد پاکستان کے آئین نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ ان ترامیم سے قبل ججوں کی تقرری کا اختیار زیادہ تر انتظامیہ کے پاس تھا، جو چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد تقرریاں کرتی تھی۔ تاہم آئینی ترامیم کے ذریعے یہ اختیار ایک وسیع البنیاد آئینی ادارے، یعنی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، کو منتقل کر دیا گیا، جس میں چیف جسٹس آف پاکستان، سپریم کورٹ کے سینئر جج، وکلاء برادری کے نمائندے، وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل پاکستان اور دیگر آئینی ارکان شامل ہیں۔ اس ڈھانچے سے واضح ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کا مقصد تقرریوں کے عمل میں شفافیت، اجتماعی فیصلہ سازی اور سب سے بڑھ کر عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانا تھا۔
لہٰذا جوڈیشل کمیشن محض انتظامیہ کی مشاورتی کمیٹی نہیں بلکہ ایک بااختیار آئینی ادارہ ہے، جسے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے انتخاب کی بنیادی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کمیشن کے فیصلے مختلف ریاستی اداروں کی نمائندگی کرنے والے آئینی عہدیداروں کی مشاورت، غور و خوض اور ووٹنگ کے بعد کیے جاتے ہیں۔ جب کمیشن اکثریتی فیصلے کے ذریعے اپنی سفارشات مرتب کر لیتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 175A کے تحت مقررہ آئینی عمل مکمل ہو جاتا ہے تو یہ سفارشات آئینی حیثیت اور تقدس اختیار کر لیتی ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 175A(8) کے مطابق آئینی طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد سفارشات صدرِ مملکت کو تقرری کے لیے ارسال کی جاتی ہیں۔ اگرچہ اس شق میں یہ الفاظ صراحت کے ساتھ موجود نہیں کہ یہ سفارشات صدر پر لازماً لازم ہوں گی، لیکن آئین کی تشریح محض لفظی مفہوم تک محدود نہیں ہو سکتی۔ آئین کی تعبیر اس مقصد کو سامنے رکھ کر کی جانی چاہیے جسے آئین سازوں اور پارلیمنٹ نے آئینی ترامیم کے ذریعے حاصل کرنا چاہا۔
اگر یہ تصور کر لیا جائے کہ صدرِ مملکت جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو مسترد کرنے یا غیر معینہ مدت تک روکنے کے لیے آزاد ہیں تو آرٹیکل 175A کے تحت قائم کیا گیا پورا آئینی ڈھانچہ غیر مؤثر ہو جائے گا۔ ایسی تشریح درحقیقت صدرِ مملکت کو ایک ایسا ویٹو اختیار فراہم کر دے گی جو آئین نے انہیں کہیں بھی نہیں دیا۔ آئینی قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ جہاں آئین نے جان بوجھ کر کوئی اختیار نہ دیا ہو، وہاں ایسا اختیار محض قیاس یا مفروضے کی بنیاد پر اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 48(1) اور 48(2) کے تحت صدرِ مملکت صرف وزیراعظم یا وفاقی کابینہ کے مشورے پر عمل کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا وہ اس وقت تک کارروائی روک سکتے ہیں جب تک انہیں مناسب مشورہ موصول نہ ہو جائے۔ بظاہر یہ دلیل قابلِ غور محسوس ہوتی ہے، تاہم آئینی اصولوں کی روشنی میں اس کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔
بلاشبہ آرٹیکل 48 اس طریقۂ کار کی وضاحت کرتا ہے جس کے تحت صدرِ مملکت اپنے عمومی انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہیں، لیکن آرٹیکل 175A کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری ایک خصوصی آئینی طریقۂ کار ہے، جسے عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم آفس کے ذریعے صدرِ مملکت کو بھیجی جانے والی سفارشات روایتی معنوں میں انتظامی یا حکومتی پالیسی پر مبنی مشورہ نہیں ہوتیں۔ وزیراعظم کو ان ناموں کے انتخاب یا رد و بدل کا کوئی آزادانہ اختیار حاصل نہیں ہوتا بلکہ وزیراعظم آفس صرف ایک آئینی ذریعہ (Constitutional Channel) کے طور پر کام کرتا ہے، جس کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے حتمی فیصلے صدرِ مملکت تک پہنچائے جاتے ہیں۔
لہٰذا آرٹیکل 48 کی ایسی تشریح نہیں کی جا سکتی جو آرٹیکل 175A کے تحت مقرر کردہ آئینی نظام کو غیر مؤثر بنا دے یا صدرِ مملکت کے اختیارات کو اس حد تک وسیع کر دے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو روکنے یا مسترد کرنے کے مجاز بن جائیں۔ آئینی تشریح کا ایک مسلمہ اصول یہ ہے کہ جب کسی معاملے پر ایک خصوصی آئینی شق اور ایک عمومی آئینی شق دونوں لاگو ہوتی ہوں تو خصوصی شق کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے آرٹیکل 175A عدالتی تقرریوں کے لیے ایک مکمل اور خصوصی آئینی ضابطہ ہے، جبکہ آرٹیکل 48 صدرِ مملکت کے عمومی انتظامی اختیارات سے متعلق ہے۔ لہٰذا دونوں دفعات کو ایک دوسرے کے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ انداز میں پڑھا جانا چاہیے۔
اسی طرح یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ آرٹیکل 175A کے آئین کا حصہ بننے کے بعد سے ایک مستقل آئینی روایت (Constitutional Convention) قائم ہو چکی ہے۔ جب بھی جوڈیشل کمیشن کی سفارشات آئینی مراحل مکمل کر کے صدرِ مملکت کو ارسال کی گئیں، مختلف ادوار کے صدور نے عمومی طور پر انہیں غیر ضروری تاخیر کے بغیر منظور کیا۔ اگرچہ آئینی روایات تحریری شکل میں موجود نہیں ہوتیں، تاہم یہ آئینی طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی تسلسل کا اہم جزو سمجھی جاتی ہیں۔ کسی مضبوط آئینی جواز کے بغیر اس روایت سے انحراف ریاستی اداروں کے درمیان قائم نازک آئینی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس وقت اس معاملے میں چار اہم آئینی ادارے ایک دوسرے سے منسلک ہیں: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، صدرِ مملکت، وزیراعظم اور پارلیمنٹ۔ آئین کا مقصد ان میں سے کسی ایک ادارے کو دوسرے پر غالب کرنا نہیں بلکہ ان کے درمیان باہمی احترام، تعاون اور آئینی ذمہ داریوں کی بنیاد پر توازن قائم رکھنا ہے۔ آئینی اداروں کے درمیان تعطل نہ عدلیہ کی آزادی کے مفاد میں ہے اور نہ ہی جمہوری نظام کے استحکام کے لیے سودمند۔
صدرِ مملکت کا منصب بلا شبہ انتہائی باوقار آئینی حیثیت کا حامل ہے اور اس منصب کا ہر سطح پر احترام لازم ہے۔ اسی طرح جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات بھی اس آئینی ادارے کی اجتماعی رائے کی عکاسی کرتی ہیں جسے پارلیمنٹ نے اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کے لیے خصوصی طور پر قائم کیا ہے۔ ایک آئینی منصب کے احترام کو دوسرے آئینی ادارے کے اختیارات محدود کرنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ آئین کی بالادستی کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ ہر آئینی عہدیدار صرف انہی اختیارات کو استعمال کرے جو آئین نے اسے واضح طور پر عطا کیے ہیں۔
لہٰذا موجودہ آئینی تنازع کا حل ادارہ جاتی محاذ آرائی کے بجائے آئینی تدبر، بصیرت اور افہام و تفہیم کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم اور صدرِ مملکت کو تعمیری اور مثبت مکالمے کے ذریعے اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ عدالتی تقرریوں کا آئینی عمل مزید غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو اور اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکے۔ ایسا طرزِ عمل نہ صرف آئینی اداروں پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کرے گا بلکہ آرٹیکل 175A کی روح اور مقاصد کے بھی عین مطابق ہوگا۔
اسی کے ساتھ عدلیہ کو بھی ادارہ جاتی تحمل اور احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پاکستان کی آئینی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ آئینی اداروں کے درمیان اختلافات اکثر طویل عدالتی مداخلت پر منتج ہوتے رہے ہیں، جس سے غیر ضروری ادارہ جاتی کشیدگی پیدا ہوئی۔ جب تک کوئی حقیقی آئینی تنازع کسی مجاز عدالت کے سامنے فیصلہ طلب صورت میں پیش نہ ہو، بہتر یہی ہے…

Read Previous

سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت

Read Next

تحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی،سپیکر قومی اسمبلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular