نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد (فرنٹیئر نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی اختیار ولی نے مولانا فضل الرحمان کو دعوت دی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی خالی کی ہوئی جگہ پر کھیلنے کے بجائے اپنی پچ پر واپس آکر کھیلیں، ہم ان کے ساتھ ہوں گے اور صوبے کی ترقی کے لیے ان کے دست و بازو بنیں گے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ ماضی میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے نام سے ایک اتحاد بنا تھا، جس کے سربراہ مولانا فضل الرحمان تھے اور قاضی حسین احمد بھی اس اتحاد میں شامل تھے
۔ اس اتحاد نے پرویز مشرف کو وردی میں رہتے ہوئے کئی سال تک آئین معطل رکھنے کی اجازت دی۔ اس دور میں جتنی ترامیم لائی گئیں، انہیں قومی اسمبلی سے منظور کروایا گیا اور ان کی توثیق کی گئی۔خیبرپختونخوا میں گورنر راج مجبوری میں نافذ کیا گیا، ہم اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس وقت تک حمایت جاری رکھیں گے جب تک صوبے میں امن بحال نہیں ہوجاتا۔ مولانا فضل الرحمان کی اپنی فیملی، میری اپنی فیملی اور کئی دوسرے لوگوں کے خاندان دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں
اختیار ولی نے کہا کہ چند دن پہلے تک صوبے میں لوگ کھلے عام سفر نہیں کرسکتے تھے، لیکن وقت آئے گا جب پورا صوبہ محفوظ ہوگا، کوئی نو گو ایریا نہیں ہوگا، تعلیم اور صحت کا نظام بحال ہوجائے گا، پولیس غیر سیاسی ہوجائے گی اور لینڈ مافیا اور کار لفٹروں کا راج ختم ہوجائے گا۔مولانا فضل الرحمان عمران خان یا پی ٹی آئی کی خالی کی ہوئی جگہ پر کھیلتے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔ مولانا اپنی پچ پر واپس آکر کھیلیں، ہم ان کے ساتھ ہوں گے اور ان کے دست بازو بنیں گے۔ ہم خیبرپختونخوا اور وہاں کے عوام کی ترقی، خوشحالی اور ایک خوددار پاکستان کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔گزشتہ 13، 14 سال سے دنیا کی گھڑیاں کلاک وائز گھوم رہی ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کی گھڑیاں الٹی سمت میں چل رہی ہیں۔
اختیار ولی نے مولانا فضل الرحمان کو دعوت دی کہ وہ آگے آئیں اور صوبے کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔ ہم مولانا فضل الرحمان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، ان کی عزت و توقیر کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ واپس اپنی پچ پر آئیں گے
۔خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کے حوالے سے سوال پر اختیار ولی نے کہا کہ اب معدنیات کے لائسنسز میں اضافے کے بجائے کٹوتی ہوگی اور ان کی تعداد کم کی جائے گی۔ قدرتی وسائل زمین سے نکلنے چاہییں، لیکن ان سے حاصل ہونے والی آمدن پورے ملک کی خوشحالی پر خرچ ہونی چاہیے۔پہلے معدنیات سے چند لوگ اور ایک پارٹی کے لوگ فائدہ اٹھاتے تھے، جس سے چند خاندان اور افراد مالا مال ہوگئے، بعض ارب پتی اور کھرب پتی بن گئے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ یہ قدرتی وسائل قومی خزانے میں جائیں اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن عوام پر خرچ ہو۔
اختیار ولی نے الزام عائد کیا کہ یہ لوگ افغانستان سے ہدایات لیتے ہیں، افغانستان نئی دہلی سے ہدایات لیتا ہے اور نئی دہلی کو اسرائیل کی سرپرستی حاصل ہے
