علیمہ خان کو اغوا کیا گیا، 27 ستمبر کا احتجاج نہیں رکے گا، نورین خان

لاہور(فرنٹیئرنیوز) عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد نورین نیازی نے زمان پارک کے باہر ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور کو اغوا کیا گیا ہے۔

نورین نیازی کا کہنا تھا کہ ہمیں پیغامات موصول ہونا شروع ہوئے کہ علیمہ خان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ان کی گاڑی تھانے میں موجود ہے۔ بعد ازاں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ علیمہ خان کو ایم پی او کے تحت کہیں منتقل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کو گرفتاری کے وقت کوئی کاغذ یا حکم نامہ نہیں دکھایا گیا، اس لیے ہمارا مؤقف ہے کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے، ہمیں تاحال معلوم نہیں کہ علیمہ خان کہاں ہیں اور کس حالت میں ہیں۔

نورین نیازی نے کہا کہ اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ علیمہ خان کو گرفتار کر کے 27 ستمبر کے احتجاج کو روک لیا جائے گا تو ایسا نہیں ہوگا۔ ان کے بقول یہ ظلم اب گھر گھر کی کہانی بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم باہر نکلیں گے اور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔

قبل ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو پولیس نے لاہور سے حراست میں لے لیا۔خاندانی ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو گھر کے باہر سے حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ ان کی گاڑی مزنگ تھانے میں کھڑی ہے۔ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو تھری ایم پی او کی دفعہ 16 کے تحت امن و امان میں خلل کے خدشے کے پیش نظر حراست میں لیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ مجھے نورین نیازی نے علیمہ خان کی گرفتاری کے بارے میں فون پر بتایا- ہم نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ہمارا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا۔ جبکہ ہمارا مقصد اپنے آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے پُرامن جدوجہد کرنا ہے، اور ہم کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتے۔انہوں نے کہا کہ ایسے میں علیمہ خانم کو گرفتار کرنا یا ایم پی او کے تحت نظر بند رکھنا تشدد اور کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔

اسکی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اور حالات کو خراب کرنے کا یہ پہلا قدم ہے اور یہ تمام اقدامات فی الفور بند کیے جائیں۔ علیمہ خان کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ ایسے اقدامات کے خلاف پارٹی اپنا لائحہ عمل جلد دیگی۔ڈپٹی کمشنر لاہور نے تھری ایم پی او کے تحت علیمہ خان اور پی ٹی آئی رہنما محمد امیر کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کر دیئے۔

ڈی سی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر نظر بندی کے احکامات جاری کئے گئے، پولیس رپورٹس کے مطابق دونوں افراد سے امن و امان میں خلل کا خدشہ ہے دونوں افراد کو 30 روز کیلئے کوٹ لکھپت جیل میں رکھا جائے گا۔تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق علیمہ خان اپر مال میں واقع اپنے گھر سے جم جانے کے لیے نکلی تھیں کہ انہیں لٹن روڈ پولیس نے حراست میں لے لیا۔علیمہ خان کی گرفتاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاری کر رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی ہے۔

بعد ازاں پی ٹی آئی رہنما بریگیڈیئر (ر) مشتاق نے کہا کہ حکومت ’’عوامی انقلاب‘‘ سے خوفزدہ ہے، علیمہ خان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔پی ٹی آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ ’’غیر قانونی حکومت اور غیر قانونی اقتدار پر قابض اس کے سہولت کاروں‘‘ نے علیمہ خان کو ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا ہے۔پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے ترجمان نے علیمہ خان کی حراست کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔

ادھر علیمہ خان کے وکیل رانا مدثر عمر کا کہنا ہے کہ پولیس نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، علیمہ خان کی لاہور کے تمام مقدمات میں ضمانتیں ہیں، علیمہ خان کو کس مقام یا تھانے میں رکھا ہے، ہمیں کوئی علم نہیں۔واضح رہے کہ علیمہ خان کو احتجاج اور دیگر واقعات سے متعلق متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔ 5 ستمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں علیمہ خان، ان کی بہن عظمیٰ خان اور پی ٹی آئی کے کئی دیگر رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 6 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔خیال رہے عمران خان کی رہائی اور ان کے بیانیے کو زندہ رکھنے میں علیمہ خان کا کردار انتہائی نمایاں اور فعال رہا ہے۔علیمہ خان نے عمران خان کی قید کے دوران عدالتی پیشیوں اور میڈیا کے سامنے ان کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا اور ہر فورم پر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

Read Previous

پی ٹی آئی کو قبائلی جماعت میں بدلنے کی بڑی سازش ہو رہی ہے،فواد چودھری

Read Next

یوکرین کا ماسکو پر سینکڑوں ڈرونز سے حملہ، ہلاکتوں کی اطلاعات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular