عمران خان کی صحت سنجیدہ انسانی معاملہ ۔۔عطا تارڑ اور طلال چوہدری کی پریس کانفرنس شرمناک ہے ،پی ٹی آئی

اسلام آباد(ظفرملک)پاکستان تحریکِ انصاف عطا تارڑ اور طلال چوہدری کی پریس کانفرنس کو انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور شرمناک قرار دیتی ہے۔ عمران خان کی صحت جیسے سنجیدہ اور انسانی مسئلے کو سیاسی بحث، الزام تراشی اور پوائنٹ اسکورنگ کا موضوع بنانا حکومتی وزراء کی بے حسی اور غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے۔

عطا تارڑ اور طلال چوہدری کو یاد رکھنا چاہیے کہ معاملہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی خواہش کا نہیں بلکہ ایک انسان کی زندگی، صحت اور بنیادی انسانی حقوق کا ہے۔ عمران خان اس وقت قید میں ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے ان کے اہلِ خانہ، ذاتی معالجین اور وکلا مسلسل اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ آج یہی وزراء یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ عمران خان کا علاج اڈیالہ جیل میں ہو رہا تھا اور انہیں تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں، جبکہ سپریم کورٹ کے سامنے جمع کروائی جانے والی میڈیکل رپورٹ خود اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی، جس میں عمران خان کی صحت اور طبی صورتحال سے متعلق تفصیلات عدالت کے سامنے رکھی گئیں۔

یہی وہ طبی صورتحال اور رپورٹ تھی جس کی روشنی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور ان کے ذاتی معالجین کو طبی عمل میں شامل کرنے کا حکم دیا۔

لہٰذا عطا تارڑ اور طلال چوہدری پہلے یہ وضاحت کریں کہ اگر اڈیالہ جیل میں عمران خان کا علاج اتنا ہی بہترین اور اطمینان بخش تھا تو پھر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی طبی صورتحال کے بعد عدالت کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

یہ بھی قوم کو یاد دلانا ضروری ہے کہ جب ان کے اپنے قائد نواز شریف نے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی درخواست کی تھی تو پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے سیاسی انتقام اور ذاتی دشمنی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انسانی ہمدردی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا۔ اس وقت ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی حکومت کے وزراء نے نواز شریف کے علاج کے حق کو تسلیم کیا، انہیں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی گئی اور عمران خان نے خود بھی نواز شریف کی صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

حتیٰ کہ آج جو لوگ عمران خان کے علاج کے بنیادی حق میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور عدالتی فیصلے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پی ٹی آئی حکومت نے نواز شریف کے علاج کے معاملے میں حتیٰ کہ ان کے ذاتی معالجین کو بھی طبی معاونت اور رسائی فراہم کی اور انسانی بنیادوں پر ان کے علاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔

آج اسی جماعت کے وزراء کا رویہ دیکھ کر قوم سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ وہ کس قدر سیاسی اور اخلاقی پستی کا شکار ہو چکے ہیں کہ ایک سابق وزیراعظم اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما کے علاج کے معاملے میں بھی سیاست کر رہے ہیں۔

عطا تارڑ اور طلال چوہدری کو شرم آنی چاہیے کہ وہ ایک بیمار اور قید سیاسی رہنما کے علاج کے بنیادی حق کو بھی سیاسی بحث کا موضوع بنا رہے ہیں۔ عمران خان کے معاملے میں اگر واقعی انہیں طبی سہولیات کی فراہمی پر اتنا اعتماد ہے تو انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں سے معائنہ اور علاج کروانے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

اب جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا تین رکنی بینچ واضح حکم دے چکا ہے کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ ان کا مکمل طبی معائنہ کرے، ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو طبی عمل میں شامل کیا جائے، تو حکومت کا کام عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرنا ہے، نہ کہ پریس کانفرنسیں کر کے اس فیصلے کو متنازع بنانے کی کوشش کرنا۔

اگر حکومت کو عمران خان کی صحت اور علاج کے حوالے سے کوئی اعتراض تھا تو اسے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے تھا۔ لیکن عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد وزراء کی جانب سے اس فیصلے پر اعتراضات اٹھانا، قانونی موشگافیوں میں الجھانا اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کے انسانی اور طبی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ، ذاتی معالجین کی شمولیت، اہلِ خانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے سمیت واضح ہدایات جاری کی ہیں۔

حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ سپریم کورٹ کے احکامات حکومت کی مرضی کے تابع نہیں ہوتے۔ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ریاستی اداروں کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔

وزراء کی پریس کانفرنسیں، سیاسی بیانات اور نظرِ ثانی کی درخواستیں اپنی جگہ، لیکن جب تک سپریم کورٹ اپنے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں کرتی، ریاستی اداروں پر لازم ہے کہ وہ عدالتی حکم پر مکمل، فوری اور بلا تاخیر عمل درآمد کریں۔

پاکستان تحریکِ انصاف واضح کرتی ہے کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنا کسی قسم کی سیاسی رعایت نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا حکم اور عمران خان کا بنیادی انسانی و طبی حق ہے۔

جو لوگ آج عمران خان کے علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی پر اعتراض کر رہے ہیں، انہیں اپنے ماضی کے طرزِ عمل پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ کل تک وہ اپنے قائد کے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کو اس کا بنیادی حق قرار دیتے تھے، آج عمران خان کے اسی بنیادی انسانی اور طبی حق کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ یہی دوہرا معیار ان کی سیاسی منافقت کو بے نقاب کرتا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ کے حکم پر من و عن عمل کیا جائے، ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ کو مکمل رسائی دی جائے اور عمران خان کے علاج کے معاملے میں کسی قسم کی تاخیر، رکاوٹ یا سیاسی مداخلت نہ کی جائے۔

عمران خان کی زندگی اور صحت سیاسی انتقام کی نذر نہیں کی جا سکتی۔ ریاست کا فرض ہے کہ عدالت کے حکم پر عمل کرے، عمران خان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے اور ان کے علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کرے۔

عطا تارڑ اور طلال چوہدری کو چاہیے کہ پریس کانفرنسوں میں عدالتی فیصلوں پر اعتراضات اٹھانے کے بجائے عدالت کے حکم کا احترام کریں، اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور عمران خان کے علاج کے معاملے کو سیاسی انتقام اور پوائنٹ اسکورنگ سے بالاتر رکھیں۔

Read Previous

بیمار قیدی کا علاج اس کا حق، معاملہ عدالت نہیں جانا چاہیے تھا، بلاول بھٹو

Read Next

آئی جی اسلام آبادکا سکیورٹی، ٹریفک، لاجسٹکس اور پولیس ویلفیئر سے متعلق امور کا جائزہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular