اسلام آباد میں یادگار فتح کی افتتاحی تقریب کا آغاز

اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یادگارِ فتح کی شاندار افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں قومی جذبے، حب الوطنی، اتحاد و یکجہتی اور دفاع وطن کے عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔

تقریب میں سروسز چیفس، وفاقی وزرا، غیر ملکی سفرا، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی

صدر مملکت آصف علی زرداری نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی تقریب میں شریک ہوئے۔تقریب میں سروسز چیفس، وفاقی وزرا، غیر ملکی سفرا، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب بھی تقریب میں موجود تھے۔

 

شاندار تقریب میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان پولیس کے دستوں نے شرکت کی، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پولیس کے دستے بھی تقریب کا حصہ بنے۔مسلح افواج کے ساتھ ساتھ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سول آرمڈ فورسز کے دستوں نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ باوقار دستوں کی پریڈ نے قومی اتحاد، یگانگت اور یکجہتی کی خوبصورت عکاسی کی۔

 

یادگارِ فتح کو قومی تاریخ، معرکۂ حق میں کامیابی، شہدا اور غازیوں کی لازوال قربانیوں اور عزمِ صمیم کی علامت قرار دیا گیا ہے

یادگارِ فتح کو قومی تاریخ، معرکۂ حق میں کامیابی، شہدا اور غازیوں کی لازوال قربانیوں اور عزمِ صمیم کی علامت قرار دیا گیا ہے۔تقریب کے دوران ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ شرکا نے پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔

یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب میں قومی وحدت اور یکجہتی کا پیغام نمایاں رہا، جس نے دفاع وطن کے لیے قوم اور مسلح افواج کے باہمی عزم کو اجاگر کیا۔مہمان خصوصی صدر آصف علی زرداری نے یادگار فتح کا افتتاح کیا۔

اسلام آباد کے ایچ ایٹ مین ایکسپریس وے پر واقع یادگارِ فتح کو معرکۂ حق، قومی استقامت، دفاع وطن اور اتحاد و یکجہتی کی علامت کے طور پر تعمیر کیا گیا ہے۔تقریب کے موقع پر شہریوں کی بڑی تعداد مختلف علاقوں سے یہاں پہنچی۔ شرکا نے قومی پرچم لہراتے ہوئے پاکستان سے محبت اور قومی یکجہتی کا اظہار کیا، جس کے باعث افتتاحی تقریب ایک پرجوش اور ملی جذبے سے بھرپور منظر پیش کرتی رہی۔

یادگارِ فتح کا ڈھانچہ تقریباً 80 فٹ بلند اور 150 فٹ چوڑا ہے، جو اسلام آباد کے تعمیراتی منظرنامے میں ایک نمایاں اضافہ بن کر سامنے آیا ہے۔ یادگار کی تعمیر میں قومی تاریخ اور دفاع وطن کے جذبے کو نمایاں کرنے کے ساتھ جدید طرزِ تعمیر کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔یادگارِ فتح میں جدید بصری ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ یادگار پر مستقل 3 ڈی پروجیکشن میپنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، جس کے ذریعے رات کے وقت اس کے محرابوں، ستونوں اور سنگِ مرمر سے مزین سطحوں کو مختلف روشنیوں اور مناظر سے اجاگر کیا جائے گا۔

یادگار پر اختتامِ ہفتہ کی راتوں میں خصوصی پروجیکشن شوز بھی منعقد کیے جانے کی توقع ہے، جس سے یہ مقام شہریوں کے لیے ایک نئی تفریحی اور سیاحتی کشش بن سکتا ہے اور مستقبل میں عوامی اجتماعات کے لیے بھی اہم مرکز کی حیثیت اختیار کرسکتا ہے۔یادگارِ فتح کے تعمیراتی ڈھانچے اور پتھر کے کام سمیت منصوبے کے اہم حصے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) نے مکمل کیے ہیں۔

افتتاحی تقریب میں شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت نے یادگارِ فتح کو نہ صرف قومی تاریخ اور دفاعی عزم کی علامت کے طور پر اجاگر کیا بلکہ اسے اسلام آباد کے ایک نئے نمایاں قومی و عوامی مقام کے طور پر بھی متعارف کرا دیا۔

Read Previous

جشنِ آزادی، آئی ایس پی آر کی جانب سے ’میرا پیارا وطن پاکستان‘ ملی نغمہ ریلیز

Read Next

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات و علاج سے متعلق مقدمات سماعت کیلئے مقرر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular