نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)وفاقی حکومت کا براہِ راست قرض رواں سال جون تک بڑھ کر 83.6 کھرب روپے ہوگیا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 5.8 کھرب روپے یا 7.3 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ چار سال کے دوران وفاقی حکومت کے قرض میں مجموعی طور پر 75 فیصد اضافہ ہوا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے مالی سال 2025-26 کے لیے مرکزی حکومت کے براہِ راست قرض سے متعلق ڈیٹ بلیٹن جاری کردیا۔ رپورٹ کے مطابق جون 2022 کے مقابلے میں وفاقی حکومت کے قرض میں 35.8 کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔یہ اعداد و شمار آئی ایم ایف اور بعض دوطرفہ قرض دہندگان سے حاصل کیے گئے ان قرضوں کو شامل نہیں کرتے جو اسٹیٹ بینک کی بیلنس شیٹ پر درج ہیں۔ اسٹیٹ بینک مکمل عوامی قرض کی تفصیلات آئندہ ماہ جاری کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار سال کے دوران قرض میں اضافے کی رفتار سابقہ برسوں کے مقابلے میں کم رہی، جس کی بڑی وجہ غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری اور وزارت خزانہ کی جانب سے سرکاری اخراجات پر سخت کنٹرول تھا۔ تاہم، بعض مواقع پر ان پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے ضمنی گرانٹس بھی جاری کی گئیں۔اس عرصے میں پاکستان آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت رہا جبکہ حکومت نے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بھی بڑھایا، جس میں پٹرولیم لیوی، تنخواہ دار طبقے، رئیل اسٹیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر پر زیادہ ٹیکس شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قرضوں کا بڑھتا بوجھ معیشت کے پیداواری شعبوں کے لیے اخراجات کی گنجائش محدود کر رہا ہے، جبکہ بجٹ کا 42 سے 50 فیصد حصہ سود کی ادائیگیوں میں خرچ ہو رہا ہے۔ رواں مالی سال قرضوں کی ادائیگی کے لیے 8 کھرب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جبکہ این ایف سی کے تحت صوبوں کو 8.8 کھرب روپے منتقل کیے جائیں گے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت کا مقامی قرض جون 2025 کے 54.5 کھرب روپے سے بڑھ کر جون 2026 تک 59.5 کھرب روپے ہوگیا، یعنی ایک سال میں 5 کھرب روپے یا 9.1 فیصد اضافہ ہوا۔اسی طرح حکومت کا غیر ملکی قرض 23.4 کھرب روپے سے بڑھ کر 24.2 کھرب روپے ہوگیا، جس میں 783 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ روپے کی قدر میں بہتری کے باعث غیر ملکی قرض میں اضافے کی رفتار گزشتہ رجحانات کے مقابلے میں کم رہی۔
