نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد (فرنٹیئر نیوز)بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم چائلڈ پروٹکٹرز کی چیئر پرسن انیلہ ایازنےبچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچے گھروں، سکولوں، مدارس اور ٹیوشن سنٹرز سمیت کہیں بھی مکمل طور پر محفوظ نہییں ہیں،
حکومت بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات کو قومی ایمرجنسی قرار دے اور متعلقہ اداروں کو ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنایا جائے،
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں چائلڈ پروٹیکٹرز کے زیر اہتمام ’’محفوظ بچے، روشن کل‘‘ کے عنوان سے ہونے والی پریس کانفرنس میں تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کنور دلشاد، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ارشد اکبر، سید اشتیاق گیلانی،، مہوش کیانی سمیت دیگر نے بھی شرکت کی۔
مقررین نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سےمطالبہ کیا کہ حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قومی پالیسی مرتب کرے اور فوری اقدامات اٹھائے، جبکہ بچوں سے زیادتی کے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں۔مقررین نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات کو قومی ایمرجنسی قرار دے اور متعلقہ اداروں کو ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنایا جائے۔
مقررین نے مزید کہا کہ قوانین موجود ہیں مگر اصل مسئلہ ان پر مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ والدین اور بچوں میں آگاہی کے لیے سکولوں اور کالجوں میں باقاعدہ مہم شروع کی جائے گی۔مقررین نے کہا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔ ملزمان کو قانون کے مطابق مؤثر اور یقینی سزائیں ملنی چاہئیں، جبکہ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو نفسیاتی و سماجی معاونت بھی فراہم کی جائے۔مقررین نے صدر مملکت، وزیراعظم اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے جامع قومی حکمت عملی مرتب کی جائے، قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
