نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(ظفرملک)۔ پاکستان تحریک انصاف اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے اس مؤقف کو سختی سے مسترد کرتی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ چیئرمین عمران خان کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔ یہ بیان حقائق کے برعکس اور عوام و عدالت کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو طویل عرصے سے انتہائی سخت اور غیر معمولی پابندیوں کا سامنا ہے۔ ان کی بہنوں اور اہلِ خانہ سے باقاعدہ ملاقاتوں میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، جبکہ عدالتی احکامات کے باوجود ملاقاتوں کے حق کو بارہا محدود کیا گیا ہے۔ اسی طرح عمران خان کو اپنے ذاتی معالج سے معائنہ اور علاج کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جا رہی، جس سے ان کی صحت کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
اگر واقعی جیل حکام اپنے دعووں میں سچے ہیں تو پھر ملاقاتوں پر غیر قانونی پابندیاں کیوں عائد ہیں؟ عمران خان کو ان کے اہلِ خانہ، وکلاء اور ذاتی معالج تک آزادانہ رسائی کیوں نہیں دی جا رہی؟ حقیقت کو سرکاری بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت کیا جاتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ عدالتوں کے تمام احکامات پر فوری اور مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے، عمران خان کو ان کے آئینی و قانونی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں، اہلِ خانہ اور وکلاء سے بلا رکاوٹ ملاقاتوں کی اجازت دی جائے، اور ان کا طبی معائنہ ان کے ذاتی معالج سے فوری طور پر کروایا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف واضح کرتی ہے کہ عمران خان کے بنیادی انسانی اور قانونی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی نہ صرف قانون کی حکمرانی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ انصاف کے نظام کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔
