نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد :سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی مسلسل نظر بندی کے تین سال مکمل ہونے سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بنیادی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں۔
جنوبی ایشیا کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی قائم مقام علاقائی ڈائریکٹر ازابیل لاسی نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستانی حکام نے عمران خان کو منصفانہ ٹرائل کے حق سے محروم رکھا، انہیں طویل عرصے تک تنہائی میں رکھا گیا، جبکہ طبی سہولیات اور اہلِ خانہ سے ملاقات کے حقوق بھی محدود کیے گئے۔
بیان کے مطابق عمران خان کو گزشتہ آٹھ ماہ سے زائد عرصے سے اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور اطلاعات ہیں کہ ان کی بینائی بھی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کو دسمبر 2025 سے اپنے وکلا تک بھی باقاعدہ رسائی حاصل نہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا کہ دونوں کو اہلِ خانہ اور قانونی مشیروں سے بلاشرط ملاقات کی اجازت دی جائے، مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کی تنہائی میں قید فوری طور پر ختم کی جائے، جسے تنظیم نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
تنظیم نے عمران خان کی نظر بندی کی برسی کے موقع پر ان کے اہلِ خانہ، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حامیوں کی جانب سے متوقع اجتماعات کے تناظر میں بھی حکومت پر زور دیا کہ پرامن احتجاج کے حق کو یقینی بنایا جائے اور مظاہرین کے خلاف غیر قانونی اور من مانی کارروائیوں سے گریز کیا جائے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 72 سالہ عمران خان 2018 میں پاکستان کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے اور اپریل 2022 میں قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے الگ ہوئے۔ اس کے بعد ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی سرگرمیوں میں شدید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا اور 2024 کے عام انتخابات میں بھی حصہ لینے سے روکا گیا۔
تنظیم کے مطابق عمران خان کو پہلی بار 9 مئی 2023 کو گرفتار کیا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جبکہ 5 اگست 2023 کو دوبارہ گرفتار کیے جانے کے بعد سے وہ مسلسل حراست میں ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے احتجاج کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں، جن میں سے متعدد افراد اب بھی انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں زیر حراست ہیں جبکہ 85 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ 2024 میں تنظیم نے عمران خان کے خلاف مقدمات کا جائزہ لینے کے بعد ان کی قید کو غیر قانونی اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا تھا۔ جنوری 2025 میں انہیں سرکاری رازوں اور بشریٰ بی بی سے شادی سے متعلق مقدمات میں بری کر دیا گیا
، تاہم اس وقت وہ بدعنوانی کے الزامات پر 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اسی مقدمے میں بشریٰ بی بی کو بھی سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ دسمبر 2025 میں دونوں کو ریاستی تحائف سے متعلق ایک مقدمے میں مزید 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دسمبر 2025 میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے انسدادِ تشدد نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی حراستی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی قید کے حالات بین الاقوامی معیار سے کم تر ہیں
جبکہ 2024 میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانی حراست بھی عمران خان کی حراست کو من مانی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے منافی قرار دے چکا ہے۔
