پمز آتشزدگی میں زندہ بچایا گیا واحد بچہ بھی دم توڑ گیا

اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال میں آتشزدگی کے دوران زندہ بچایا گیا واحد نومولود بچہ بھی آج جمعرات 17 ستمبر کو انتقال کر گیا۔پمز اسپتال کی نرسری میں 26 اگست کو رونما ہونے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے میں 14 مولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے جب اسپتال کی اسٹاف نرس رضیہ نورین بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑھکتی آگ میں سے ایک بچے کو زندہ نکالنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔

پمز اسپتال کی جانب سے جاری کیے گئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق یہ ایک بچی تھی جس کی عمر صرف 37 دن تھی۔سرٹیفکیٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچی کی موت کی وجہ دل اور سانس رکنے کے باعث ہوئی۔ بچی کو سیپسس، ڈی آئی سی اور پھیپھڑوں میں خون بہنے سمیت شدید طبی پیچیدگیوں کا سامنا تھا۔اسپتال کے مطابق نومولود بچی 26 اگست کو نرسری میں آتشزدگی سے بچانے کے بعد اسی اسپتال میں داخل ہوئی تھی اور تقریبا 22 روز زیرِ علاج رہنے کے بعد 17 ستمبر کو انتقال کر گئی۔

ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر بچی کا کوئی نام درج نہیں بلکہ اس کا اندراج ماں کی نسبت سے ہی کی گیا ہے۔ والدین کا پتہ آزاد جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ کے گاں گھمیر بالا کا لکھا گیا ہے۔اس بچی کی وفات سے پمز نرسری سانحے میں جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے، یعنی آگ لگنے کے وقت نرسری میں جتنے بچے تھے، سب فوت ہو چکے ہیں۔اس بچی کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کے لیے گزشتہ روز ہی صدر مملکت نے ستارہ شجاعت کی منظوری دی تھی۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رضیہ نے کس قدر بہادری اور ہمدردی کا مظاہرہ کرکہ اپنے جان خطرے میں ڈالتے ہوئے نرسری سے بچوں کا بچانے کی کوشش کی تھی، تاہم آگ فورا زیادہ پھیل جانے کی وجہ سے وہ نرسری سے صرف ایک بچے کو ہی نکال پائیں تھیں۔آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ آگ غالبا ایئرکنڈیشنر نمبر 2 کی برقی سپلائی کیبل میں خرابی کے باعث لگی تاہم اسپتال کے ناقص نظام اور ادارہ جاتی ناکامی نے واقعے کو بڑے سانحے میں تبدیل کردیا۔

وزیر اعظم نے گزشتہ روز ہی پمز میں فائر سیفٹی نظام کی بہتری، اسپتال کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور آتشزدگی کے واقعے پر تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد آئندہ 3 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

 

Read Previous

بیٹی اور داماد کی رہائی کا حکم، شیریں مزاری آبدیدہ ہو گئیں

Read Next

وفاقی وزیر داخلہ سے چوہدری سالک حسین اور ڈاکٹر امجد کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular