نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)سپریم کورٹ کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل اور فوری رہائی کے حکم پر شیریں مزاری آبدیدہ ہوگئیں۔شیریں مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہاللہ کا شکر ہے، سپریم کورٹ سے ہمیں بہت امیدیں تھیں اور آج انصاف مل گیا۔
دوسری جانب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مختلف شخصیات کی جانب سے ردعمل سامنے آیا۔صحافی حیدر عباسی نے ایک پوسٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کی قید اور 17،17 سال کی سزائیں انتہائی غیر معمولی تھیں، جبکہ انہوں نے ایمان اور ہادی کو جیل میں رہنے کے دوران ثابت قدم رہنے پر بہادر قرار دیا۔
صحافی اسد رحیم خان نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ شکر گزار ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے معاملے میں مزید پیش رفت ہوگی۔صحافی اور تجزیہ کار اسد علی طور نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ عدالت عظمی نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کردی ہیں اور انہیں ضمانت دے دی گئی ہے۔صحافی مبشر زیدی نے بھی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی جدوجہد کا ذکر کیا اور کہا کہ دونوں نے پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کیا ہے۔
سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ سپریم کورٹ نے کچھ دیر قبل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سزا کا حکم معطل کیا ہے۔ انہوں نے وکیل فیصل صدیقی کی جانب سے کیس کے دلائل کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں وکلا 8 ماہ سے زائد عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد رہا ہوجائیں گے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی ایف آئی آر میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی اور پاک فوج پر سنگین الزامات لگائے۔ایف آئی آر میں یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کا ذمہ دار سکیورٹی فورسز کو ٹھہرایا اور فوج کو بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے کالعدم گروہوں کے خلاف غیر مثر ظاہر کیا۔ مقدمہ پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج ہوا تھا۔ایمان مزاری اور انکے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 23 جنوری 2026 کو باقاعدہ گرفتار کیا گیا تھا۔
