نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
واشنگٹن(فرنٹیئرنیوز) عالمی سطح پر ایندھن کے عظیم بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے، تیل صنعت کے اعلیٰ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور فوری طور پر صورتحال بہتر ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حکام موجودہ بحران کو عارضی قرار دے رہے ہیں، تاہم تیل کمپنیوں کے سربراہان اس سے مختلف صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
شیورون کے چیف ایگزیکٹو مائیک ورتھ کے مطابق دنیا بھر میں تجارتی ایندھن کے ذخائر 6 ماہ سے زائد عرصے سے مسلسل کم ہو رہے ہیں جبکہ تیل کی ہنگامی حکمت عملی کے تحت موجود خام تیل کے ذخائر کو بھی مزید بڑے پیمانے پر استعمال کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں ایک اہم خام تیل پائپ لائن پر حملوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو نظرانداز کرنے والی پائپ لائن بند ہوگئی، جس سے پہلے ہی محدود عالمی منڈی میں روزانہ تقریباً 2.5 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
ویب سائٹ Seeking Alpha کے مطابق مائیک ورتھ نے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحران کے اثرات کم کرنے والے کئی طریقے اب بڑی حد تک استعمال ہوچکے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں عالمی نظام میں تیل کے ذخائر کا حفاظتی مارجن بہت کم رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے چند ماہ میں تیل کی قیمتوں میں فوری کمی کے بجائے مزید اضافے کے خطرات زیادہ نظر آرہے ہیں۔
امریکا میں ایندھن کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ڈیزل کی فی گیلن خوردہ قیمت ریکارڈ 6.23 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گرمیوں میں 4 ڈالر سے نیچے آنے والی پٹرول کی قیمت دوبارہ بڑھ کر 4.32 ڈالر فی گیلن ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے، بحری جہازوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے باعث بعض تیل کمپنیوں کے سربراہان اور توانائی کے مشیر عالمی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
کوانٹم کیپیٹل گروپ کے چیف ایگزیکٹو ول وان لوہ نے کہا کہ مذاکرات میں عموماً اس فریق کو برتری حاصل ہوتی ہے جس کے پاس وقت ہوتا ہے اور جو صبر سے کام لینے کے لیے تیار ہو۔ ان کے مطابق ایران طویل عرصے تک مشکلات برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین بھی عالمی تیل کی قلت میں اضافے کا ایک سبب بن رہا ہے۔ چین نے کئی ماہ تک اپنے خام تیل کے ذخائر استعمال کرتے ہوئے اپنی روزانہ کھپت کا تقریباً نصف پورا کیا، جس سے عالمی تیل منڈی کو کچھ ریلیف ملا، تاہم اب چین نے بین الاقوامی سپلائرز سے دوبارہ بڑی مقدار میں خام تیل خریدنا شروع کردیا ہے۔
ادھر سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر نئے حملوں اور مشرق وسطیٰ میں بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات میں اضافے کے باعث پیر کو خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمتیں مزید بلند ہوگئیں۔
