پاکستان کے مختلف علاقوں میں بارش کے باعث سیلاب کا خدشہ،الرٹ جاری

اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے 17 ستمبر 2026 تک ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے باعث ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا۔

این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاں اور ندی نالوں میں پانی کے بہا میں اضافے کا خدشہ ہے۔گلگت بلتستان کے گلگت، دیامر، غذر، اشکومن، گپس یاسین، نگر، ہنزہ، شمشال، اسکردو اور شگر میں اچانک سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔خیبر پختونخوا کے اپر دیر، سوات، باجوڑ، ملاکنڈ، کرم، کوہستان، مہمند اور اورکزئی میں بھی سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔

اسی طرح بلوچستان کے ژوب، شیرانی اور موسی خیل جبکہ اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی سیلاب کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ پنجاب کے راولپنڈی، گوجرانوالہ، سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شیخوپورہ کے شہری علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔اتھارٹی کا یہ الرٹ ایسے وقت میں جاری ہوا ہے جب اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ راولپنڈی کے نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے کے بعد شہر میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے کہ جبکہ خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی میں بھی سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

این ڈی ایم اے نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی الرٹ جاری کرتے ہوئے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری تیاریاں مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔این ای او سی کے مطابق مرکز ممکنہ خطرات کا پیشگی جائزہ لے کر عوام اور متعلقہ اداروں کو بروقت آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔این ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید بارش کے دوران برساتی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور نشیبی گزرگاہوں کو عبور کرنے سے گریز کریں۔

عوام کو موسم کی صورتحال، ممکنہ خطرات اور حفاظتی تدابیر سے متعلق مستند معلومات کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے رہنمائی لینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق کسی بھی ہنگامی سیلابی صورتحال میں مدد کے لیے 911 ہیلپ لائن سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔اس سے قبل چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں حالیہ مون سون سیزن میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے پیشگی انتظامات پر بریف کیا۔

وزیر اعظم نے انہیں بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو ہر ممکن امداد اور ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے بارشوں کے دوران رابطہ سڑکوں اور پلوں پر ٹریفک کی روانی یقینی بنانے اور امدادی سامان کی ترسیل کے حوالے سے متعلقہ محکموں کے ساتھ روابط بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔اس دوران چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو جاری مون سون سیزن کے متوقع رجحان اور صوبوں اور ادراوں کے باہمی تعاون سے جاری مجموعی انتظامات کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔

ان پیش رفتوں کے دوران اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش جاری رہی جس سے نہ صرف گلیوں اور سڑکوں میں مانی جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا بلکہ کئی گھروں میں بھی پانی داخل ہو گیا۔راولپنڈی کے ڈھوک کالا خان، صادق آباد، شکریال اور کری روڈ سمیت متعدد علاقوں میں بارشی پانی جمع ہوگیا جبکہ شہر میں اب تک 40 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے۔

یونین کونسل 22 کے محلہ مری ہزارہ کالونی میں بارشی پانی کا بڑا ریلا آبادی میں داخل ہوگیا جس سے گھروں اور گلیوں میں پانی جمع ہوگیا۔ متاثرہ شہریوں نے شکایت کی کہ واسا کی ٹیمیں تاحال علاقے میں نہیں پہنچ سکیں اور ضلعی انتظامیہ سے مدد کی اپیل کی ہے۔مسلسل بارش کے باعث اسلام آباد ایکسپریس وے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ہزاروں گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنس گئیں۔ نائنتھ ایونیو پر بھی بارشی پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق مختلف شاہراہوں پر پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوسکتی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سفر کے لیے اضافی وقت لے کر گھروں سے نکلیں، بارش کے دوران گاڑی اور موٹر سائیکل کی رفتار کم رکھیں اور آگے چلنے والی گاڑی سے مناسب فاصلہ برقرار رکھیں۔ٹریفک پولیس نے ڈرائیورز کو فوگ لائٹس استعمال کرنے، اپنی لین میں رہنے، سائیڈ شیشوں اور انڈیکیٹرز کے استعمال کے ساتھ سیٹ بیلٹ باندھنے کی ہدایت کی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو انتہائی بائیں لین میں چلنے اور ہیلمٹ پہننے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی میں تیز بارش کے بعد متعدد علاقے زیرآب آگئے۔ مرغز میں شدید بارش کے باعث کئی گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔مقامی افراد نے مرغز کے نوجوانوں سے متاثرہ گھروں سے سامان نکالنے میں مدد کے لیے گورنمنٹ پرائمری اسکول نمبر ایک، نزد گاڑی اڈہ، پہنچنے کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے بھی خیبر پختونخوا کے بیشتر میدانی اضلاع میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی ابر آلود رہنے اور مختلف علاقوں میں تیز ہواں کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور، سوات، دیر اور کوہستان سمیت مختلف اضلاع میں بارش کا امکان ہے، جبکہ شانگلہ، ایبٹ آباد، بنوں، چارسدہ اور مردان میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری متوقع ہے۔

صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ، ہنگو، کرم اور باجوڑ میں بھی بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے، جبکہ مہمند، خیبر، کرک، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں تیز ہوائیں چلنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

 

Read Previous

بنگلا دیش، عوامی لیگ پارٹی کے جنرل سیکریٹری عبیدالقادر سمیت 7 افراد کو سزائے موت

Read Next

جماعت اسلامی نے مارچ کی ٹھان لی ، تیاریاں مکمل ،باقاعدہ اعلان جلد ہوگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular