نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی 27ستمبر احتجاج و لانگ مارچ کی کال کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران
اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ وزیراعلی کے پی سمیت پبلک اور آفس ہولڈرز کے بیانات آ چکے ہیں،پارٹی کے اہم ذمہ دار افراد اسلام آباد کو محصور کرنے کے بیانات دے رہے ہیں۔سہیل آفریدی اور پارٹی عہدیداروں کے بیان نظرانداز نہیں کئے جا سکتے،حکومت یا کوئی افسر ایکشن نہ لے تو عدالت ہدایات دے سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی 27ستمبر احتجاج و لانگ مارچ کی کال کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی۔
اٹارنی جنرل نے کہاکہ مئی 2022میں یقین دہانی کے باوجود عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی،2024کے عدالتی آرڈر کی بھی خلاف ورزی کی گئی، پی ٹی آئی احتجاج کے دونوں تجربات نے ہمیں بہت کچھ سکھایا، 2022میں بانی پی ٹی آئی نے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کی کال دی، اس وقت عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، بلیو ایریا میں گرین بیلٹ کو آگ لگائی گئی،نومبر2024میں وہی صورتحال دوبارہ پیدا ہوئی۔
اٹارنی جنرل کاکہناتھا کہ سہیل آفریدی کاکہنا ہے 2024سے زیادہ تیاری کے ساتھ آ رہے ہیں ،وزیراعلی کے پی سمیت پبلک اور آفس ہولڈرز کے بیانات آ چکے ہیں،پارٹی کے اہم ذمہ دار افراد اسلام آباد کو محصور کرنے کے بیانات دے رہے ہیں،سہیل آفریدی اور پارٹی عہدیداروں کے بیان نظرانداز نہیں کئے جا سکتے،حکومت یا کوئی افسر ایکشن نہ لے تو عدالت ہدایات دے سکتی ہے۔
