نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
لاہور(فرنٹیئرنیوز)عدالت نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق دو حلقوں کی حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے دائر کردہ درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ حلقہ بندی محض نقشے پر حدود کھینچنے کا عمل نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد ووٹ کے حق کا تحفظ اور انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنانا ہے۔
عدالت نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ملتان کی یونین کونسلز نمبر 3 اور 4 کی حلقہ بندی کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روکا۔
عدالت کے مطابق حلقہ بندی کے دوران آبادی، جغرافیائی یکجائی، انتظامی حدود، ذرائع مواصلات، عوامی سہولیات اور علاقے کے باہمی مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ حلقہ بندی غیر جانب دارانہ ہونی چاہیے اور کسی سیاسی جماعت یا فریق کے مفاد یا مخالفت میں کی گئی حلقہ بندی انتخابی عمل کی شفافیت کو متاثر کرسکتی ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یونین کونسل 3 اور 4 کی ابتدائی حلقہ بندی 25 مئی کو شائع ہوئی، جبکہ اعتراضات دائر کرنے کی 15 روزہ مدت 9 جون کو ختم ہو گئی تھی، تاہم ایک فریق نے 17 جون کو اعتراضات دائر کیے جنہیں منظور کرتے ہوئے حلقہ بندی تبدیل کر دی گئی۔عدالت نے 25 اگست کو الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔
