مکہ دفاعی معاہدہ ، مودی سرکار گھبراہٹ و تشویش کا شکار

نئی دہلی۔بھارت میں پاکستان ،سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی مشترکہ معاہدے پرتشویش کی لہر دوڑ گئی ۔بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ تین ممالک کے مابین ہونے والے معاہدے کی پیش رفت کو ہم قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ہم اس پر آپ کو آگاہ رکھیں گے۔

یہ انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا وہ ردِعمل ہے جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین جمعے کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔جمعے کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال جب اس سوال کا جواب دے رہے تھے تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے رہنما مکہ میں موجود تھے۔

اس معاہدے کے تحت ان تینوں ممالک میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اس معاہدے کے جہاں مشرقِ وسطی کی سیاست پر پڑنے والے اثرات پر بات ہو رہی تو وہیں پاکستان کے ہمسایہ ملک انڈیا میں بھی یہ معاملہ زیرِ بحث ہے۔

تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی سینئر فیلو تنوی مدان کہتی ہیں کہ پاکستان سرد جنگ کے دوران بننے والے فوجی اتحادوں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (سینٹو) اور ساتھ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن (سیٹو) میں شمولیت کی سات دہائیاں بعد ایک نئے فوجی اتحاد میں شامل ہو رہا ہے۔

تنوی مدان نے ایکس پر لکھا کہ سیٹو کے آرٹیکل چار میں باہمی دفاع کی شق موجود تھی۔ تاہم امریکہ نے اس میں کچھ شرائط شامل کر رکھی تھیں۔

تنوی کے بقول مثال کے طور پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع کی صورت میں امریکہ خود کو اس میں شامل ہونے سے بچا سکتا تھا۔ دوسری جانب پاکستان نے امریکہ کی ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا جن میں اسے ویتنام جنگ میں حصہ ڈالنے کو کہا گیا تھا۔

Read Previous

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن کی تاریخی دستاویز ہے، بلاول

Read Next

پنجاب حکومت نے آزاد کشمیر کے طلبہ کیلئے 5 ہزار لیپ ٹاپ دینے کی منظوری دیدی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular