حکومتی اور متعلقہ اداروں کی بے حسی ، کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کے تاحال نہ لائی جاسکی

اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز) آر کے اسپورٹس مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو رئیس خان نے اسپانٹک چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران طبیعت خراب ہونے کے باعث انتقال کرجانے والی باہمت کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کے تاحال تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر موجود رہنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومتی اور متعلقہ اداروں کی بے حسی قرار دیا ہے۔

رئیس خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈاکٹر اسما مشتاق ایک باہمت پاکستانی بیٹی تھیں جنہوں نے اسپانٹک چوٹی سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا، تاہم واپسی کے دوران طبیعت خراب ہونے کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان کی میت کئی روز گزرنے کے باوجود پہاڑ پر 6400 میٹر کی بلندی پر بے یار و مددگار موجود ہے، جو نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پورے ملک کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور تشویشناک صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اسما مشتاق کی فیملی کے مطابق مبینہ طور پر میت کو پہاڑ کی بلندی سے بحفاظت نیچے لانے کے لیے 30 لاکھ روپے طلب کیے جارہے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ صورتحال انتہائی افسوسناک اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ایک پاکستانی بیٹی کی میت کو اس طرح بلند پہاڑ پر چھوڑ دینا اور اسے نیچے لانے کے لیے خاندان سے بھاری رقم طلب کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
رئیس خان نے کہا کہ حکومت کوہ پیماؤں سے مختلف مد میں بھاری فیس وصول کرتی ہے، لیکن ان کے لیے مناسب ریسکیو اور ہنگامی طبی سہولیات کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ کوہ پیمائی ایک مشکل اور خطرناک سرگرمی ہے، اس لیے ملک میں آنے والے مقامی اور بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ ریسکیو سینٹرز قائم کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوہ پیمائی کے لیے آنے والے افراد کا باقاعدہ طبی معائنہ کیا جائے اور انہیں بلند پہاڑی علاقوں میں درپیش ممکنہ طبی خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری سہولیات اور رہنمائی فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کے لیے تربیت یافتہ ریسکیو ٹیمیں، جدید آلات اور ہیلی کاپٹر سمیت دیگر ضروری وسائل دستیاب ہونے چاہئیں۔
چیف ایگزیکٹو آر کے اسپورٹس مینجمنٹ نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور کوہ پیماؤں کو بنیادی حفاظتی اور ریسکیو سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو اس کے ملک کے سیاحت اور کوہ پیمائی کے شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بین الاقوامی کوہ پیما پاکستان آنے سے گریز کریں گے اور عالمی سطح پر ملک کا تشخص بھی متاثر ہوسکتا ہے۔رئیس خان نے حکومت سے اپیل کی کہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کی واپسی کے تمام اخراجات اور انتظامات کے حوالے سے واضح پالیسی اختیار کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی کوہ پیما یا اس کے خاندان کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ ایک بہادر پاکستانی بیٹی کی میت کو پہاڑوں پر بے یار و مددگار چھوڑ دینا ہمارے اجتماعی ضمیر اور ریاستی نظام دونوں کے لیے سوالیہ نشان ہے۔

Read Previous

بھکر ۔۔گندم کی غیر قانونی اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف بھکر پولیس کا سخت کریک ڈاؤن جاری

Read Next

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کل سے 28 اگست تک برطانیہ کا سرکاری دورہ کریں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular