اسلام آباد (فرنٹیئر نیوز) لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی نے کہا ہے کہ عمران خان ایک حقیقت ہے اور اس کو تسلیم کرنا ہوگا،کرپشن مکاؤ،بیرونی دباؤ کے بغیر اپنی خارجہ اور معاشی پالیسیوں کو خود بنانا،غریبوں کے سروں پر ہاتھ رکھنا جیسے واضح لائن ایک لیڈر نے اپنی پارٹی کو دیدی ہے اس پر پارٹی بھی اپنے اقدامات تیز کرے،
گورنر راج کا خاتمہ ضرور ہوگا لیکن یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہوگا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی جس تناظر میں لگائی گئی ہے وہ اہداف پورے ہوئے یا نہیں،امن وامان کا مسلہ صوبائی نہیں وفاق کی ذمہ داری ہے،عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ اگر مل جائے تو ملک کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ڈیجیٹل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہے کہ عمران خان ایک بہت بڑا لیڈر ہے اور اس حقیقت کو کبھی جھٹلایا نہیں جا سکتا لیکن یہ بھی اٹل ہے کہ ایک لیڈر نے اپنی پارٹی اور قوم کو ڈائریکشن دیدی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف یہ چاہتی ہے کہ ملک میں کرپشن کا خاتمہ ہو،ملک میں خارجہ و معاشی پالیسی ہم خود بنائیں،غریبوں کا خاص خیال رکھیں
،اس پر انکی پارٹی کو چاہیے کہ اس ڈائریکشن کو ایک ہدایت بنا کر مزید اقدامات کریں،ہاں درست عمل ہے کہ ساتھ ساتھ اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے بھی آواز اٹھائیں،سوال کے جواب میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو محسوس ہو رہا ہے کہ ان کا چناؤ شاید مس کولیکشن تھی اور جو کام عوام کی بھلائی کے لیے اسٹیبلیشمنٹ کرنا چاہتی ہے اس راستہ میں انکی چنی ہوئی دو پارٹیاں ہی روڑے اٹکا رہی ہے،اب اگر دیکھا جائے عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں کہ پیسہ ڈائریکٹ عوام کو ملے لیکن اس کے راستے میں وہ لوگ رکاوٹ ہیں جو کرپٹ ہیں
،ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ گورنر راج لگا دیا گیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ لیکن دیکھا جائے تو دہشت گردی ختم کرنا صوبہ کی ذمہ داری نہیں وفاق کی ہے اور میرے نزدیک پی ٹی آئی دہشت گردی کے خاتمہ میں رکاوٹ نہیں تھی اور پتہ بھی چل جائے گا کہ کتنی دہشت گردی ختم ہوئی سب سامنے آ جائے گا،مولانا فضل الرحمان ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں وہ اس لائن پر ہیں جو سیاسی لوگوں کی ہونی چاہیئے اس پر پی ٹی آئی کو انکی اچھی باتوں کا ساتھ دینا چاہیے،
