نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
پشاور (فرنٹیئرنیوز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بلاول کے والد ایک اور مشرقی پاکستان کرنا چاہ رہے ہیں، جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جماعت نے ذاتی مفادات کیلیے بنگلادیش کو پاکستان سے جدا کیا، ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وطیرہ رہا ہے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کا گزشتہ روز کیا جانے والا ڈرامہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے، صوبے میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے جو مکمل طور پر فعال اور برقرار ہیں، فیصل کریم کنڈی چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا کر غیر آئینی اجلاس منعقد کر رہے ہیں، ان کا اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ پیپلز پارٹی ماضی میں بھی غلط کردار ادا کر چکی ہے، موجودہ اقدامات سے ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے، پاکستان کو توڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، گزشتہ روز کے اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی، کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وتیرہ رہا ہے، فیصل کریم کنڈی کی غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد اشتعال دلانا اور ردعمل پر مجبور کرنا ہے، صوبے میں دوبارہ دہشتگردی مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں، عمران خان اور ان کی حکومت نے ہمیشہ کے پی پولیس اور عوام کا ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا وفاقی حکومت کا ہمیشہ کے پی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے۔ 2018 میں قبائلی اضلاع صوبے میں ضم کیے گئے لیکن ان کا آج تک مالی طور پر مکمل انضمام نہیں کیا گیا۔ ان کے متاثرین کے تقریباً 100 ارب کے معاوضے اب بھی واجب الادا ہیں، قبائلی خاندانوں کیلیے فی گھر صرف 4 لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا
جبکہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی بیگمات کے پرس کروڑوں روپے کے ہوتے ہیں۔وفاق میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والوں کو عوام پر پڑنے والی مشکلات کا احساس نہیں، اگر وفاق کے پی کے ساتھ مخلص ہے تو صوبے کا این ایف سی شیئر اپ گریڈ کرے، وفاق 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے تقریباً سوا ارب کے واجبات ادا کرے، دہشتگردی کا مقابلہ بھی کرنا ہے وفاق کی غلط پالیسیوں سے پیدا حالات کا بھی سامنا کرنا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی حکومت اور پولیس امن و امان کے قیام کیلیے سنجیدہ ہیں، پولیس کو ذاتی نوکر بنا کر دوسرے کاموں میں لگانا غلط ہے، کے پی اسٹیک ہولڈرز کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے، 22 سال میں 80 ہزار جانوں کی قربانی کے باوجود امن نہ آنا وفاقی پالیسی کی ناکامی ہے، 22 سال بعد بھی صوبے میں امن کا مسئلہ موجود ہے،
وفاقی حکومت سنجیدہ ہے تو دہشتگردی کے خلاف پالیسی تبدیل کرے۔ کے پی کا تعاون نہ کرنے کا بہانہ قابل قبول نہیں، بلوچستان میں بھی یہی پالیسی ناکام ہو رہی ہے، بلوچستان کی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون کر رہی ہے لیکن وہاں بھی امن قائم نہیں ہو رہا، وفاق کی موجودہ پالیسی نہ خیبر پختونخوا میں مؤثر ہے نہ بلوچستان میں، پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے، کے پی 100 دن میں امن قائم کر کے دکھا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پرامن رہیں گے اور صرف آئین و قانون کی بات کریں گے، عمران خان نے غیر آئینی و غیر قانونی کام نہ کرنے کی تربیت دی ہے، آئی جی اور چیف سیکریٹری کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں، خیبر پختونخوا پولیس اور انتظامیہ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں، پولیس اور انتظامیہ نے سخت حالات میں صوبے کو امن کی طرف لے جانے میں کردار ادا کیا۔
