نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک کے مختلف اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 300 کمپنیوں کو ڈسٹرکٹ لیول کلاس لائسنس جاری کردیئے۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک کے پسماندہ اور کم سہولیات والے علاقوں میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی رسائی بڑھانا اور فائبر آپٹک نیٹ ورک کی تنصیب کو فروغ دینا ہے۔ حالیہ مہینوں میں جاری کیے گئے بیشتر لائسنس خیبرپختونخوا کے اضلاع کے لیے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق اس اقدام سے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ تک رسائی بہتر ہونے، ڈیجیٹل رابطوں کو مضبوط بنانے اور فائبر نیٹ ورک کی توسیع میں تیزی آنے کی توقع ہے۔
ڈسٹرکٹ لیول کلاس لائسنس کی مدت 10 سال مقرر کی گئی ہے۔ لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کو ابتدائی طور پر 3 لاکھ روپے یکمشت فیس جبکہ پہلے سال 1 لاکھ روپے سالانہ لائسنس فیس ادا کرنا ہوگی۔
لائسنسنگ شرائط کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے ایک ضلع کی حدود میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرسکیں گے، جبکہ پی ٹی اے ہر ادارے کو صرف ایک ڈسٹرکٹ لیول لائسنس جاری کرے گا۔
لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ لائسنس جاری ہونے کے ایک سال کے اندر کمرشل سروسز کا آغاز کریں۔ اس کے علاوہ پہلے سال کے دوران کم از کم 100 براڈ بینڈ صارفین رجسٹر کرنا بھی ضروری ہوگا۔
پی ٹی اے کے مطابق اس فریم ورک کے تحت کام کرنے والے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز کو اپنا بینڈوڈتھ باقاعدہ لائسنس یافتہ آپریٹرز سے حاصل کرنا ہوگا، تاکہ ضابطہ کار کی پابندی اور سروسز کی قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
