اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے پاس گورنرراج لگانے کا کوئی اختیار نہیں

اسلام آباد (فرنٹیئر نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چار اکتوبر کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی لگا تار دھمکیوں کو البتہ پی ٹی آئی والوں نے تو سنجیدہ لیا نہیں تھا

اب تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے قریبی ساتھی نے بھی غبارہ سے ہوا نکال دی ہے،کے پی میں گورنر راج ہو یا ایمرجنسی کا لگانا تو دور کی بات اس پر سوچنا بھی مشکل ہے،اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ جب بھی صوبہ حالت جنگ میں ہوتو تب اسمبلی ایک قرارداد پاس کرے گی تو گورنر راج لگایا جا سکتا ہے یا سپیکر و وزیر اعلیٰ اعلامیہ نہ جاری کریں تو تب گورنر راج کی پریکٹس کی جا سکتی ہے،

اس وقت صوبہ میں ایسے حالات نہیں ہیں حکومت خود ایک لانگ مارچ کرنا چاہ رہی ہے حالت جنگ کہاں سے آگئی،ہاں اگر حکومت نے یہ گورنر راج والا سکہ زبردستی چلانے کی کوشش کی تو پھر حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں جس کا ابھی تک حکومت نے سوچا بھی نہیں ہے،دوسری جانب ان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کا بھی یہی حال ہے کسی ایک صوبہ میں اپلائی نہیں کی جا سکتی اگر آئین کے آرٹیکل 232یا 234کا سہارا لیا گیا تو وہ ملک بھر میں ہوگی کسی ایک صوبہ میں نہیں لگائی جا سکتی،ان خیالات کا اظہار سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن و آئینی ماہر کنور دلشاد نے میڈیا سے کیا

،دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی چار اکتوبر کو فائنل راؤنڈ کے لیے اپنی عوام کو راشن جمع کرنے کا کہا ہے ان کا بھی یہی خیال ہے کہ کشمیر میں سردی دن بدن بڑھ رہی ہے نومبر دسمبر میں تو لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھ نہیں سکتے اس سے پہلے ہی دمادم مست قلندر کر دیا جائے،یہاں حکومت کا یہ حال ہے کہ تحریک انصاف نے ایک ہفتہ لانگ مارچ کو ملتوی کیا تو حکومت بےحال بے سدھ ہو گئی

اگر یہ مارچ ایک ماہ یا پندرہ دن اور سڑکوں پر رہتا ہے تو بتائیں کیا حال ہو گا،اس حوالہ سے سنجیدہ افراد کا کہنا تھا کہ حکومت اگر مذاکرات میں سنجیدہ ہوتی تو تحریک انصاف نے انہیں ایک موقع دیا تھا جس کو یہ دھمکیوں اور ٹرٹر کی نظر کر گئے جو مذاکرات لانگ مارچ کے دوران کرنا تھے وہ ابھی کر لیتے تو کیا قباحت تھی،جب عوامی سمندر سڑکوں پر نکل آیا تو اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو گی اور پھر حکومتی اکابرین کہیں گے کہ تحریک انصاف کو ملک کا کوئی خیال نہیں وہ عدم استحکام کی جانب بڑھ رہے ہیں،اس حوالہ سے دیکھا جائے تو حکومت بھی ملکی عدم استحکام میں برابر کی شریک ہے،لانگ مارچ ابھی تک گھروں اور ایوانوں تک ہی محدود ہے اور حکومت نے پورا ملک بند کرکے معشیت کا ستیاناس کر دیا ہے

Read Previous

بھکر، سی سی ڈی کیساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم جاں بحق

Read Next

صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular