کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد میں خود کش دھماکا،16 افراد شہید

کوہاٹ(فرنٹیئرنیوز)خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکار اور 11 شہری شہید جبکہ 40 افراد زخمی ہوگئے۔انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا کہ ایک خود کش حملہ آور نے پولیس لائنز میں اسپیشل برانچ بلڈنگ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑالیا، جس کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکار اور 11 شہری جاں بحق ہوگئے۔

سینٹرل پولیس آفس سے جاری بیان کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی، جن کا پولیس اور سی ٹی ڈی نے بھرپور مقابلہ کیا۔بیان کے مطابق ابتدائی طور پر دہشت گردوں کے اسنائپر کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ اب تک خودکش بمبار اور اسنائپر سمیت 6 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے، خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔میڈیا پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متعدد شہری ایک عمارت کے قریب جمع ہیں، جس کی ایک دیوار منہدم ہو چکی ہے۔ لوگ ملبہ ہٹا کر زخمیوں کی مدد کر رہے ہیں۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ دھماکا دوپہر ایک بج کر 15 منٹ پر ہوا جس کے نتیجے میں 16 شہادتوں کے علاوہ 40 افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق 14 ایمبولینسز اور 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق علاقے کو گھیرے میں لے کر کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور پولیس لائنز کے قریب سکیورٹی فورسز کی مزید نفری پہنچ گئی ہے۔پولیس لائن میں یکے بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے ہیں۔

دریں اثنا وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوہاٹ کے پرانا پولیس لائنزمسجد میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔اپنے بیان میں وزیراعظم نے دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کے قریب دھماکے پر اظہارِ افسوس کیا ہے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا اورزخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کے قریب دھماکے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔انہوں نے کہا کہ دکھ کی گھڑی میں شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں ،خوارجیوں کی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے پختہ عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔

وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا یہ بزدلانہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے، واقعے کے تمام پہلوں کا جائزہ لے کر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، اسپتالوں میں زخمیوں کے فوری علاج اور ضروری طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔وزیراعلی سہیل آفریدی نے مزید ہدایت کی کہ شدید زخمیوں کو ضرورت کے مطابق دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔

علازہ ازیں وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے کوہاٹ میں بم دھماکے کی شدید مذمت کی گئی ہے، انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایسے بزدلانہ اقدامات قوم کے عزم اور حوصلے کو متزلزل نہیں کرسکتے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔واضح رہے کہ رواں برس 6 فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ خدیج الکبری میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں نمازِ جمعہ کے دوران کم از کم 31 افراد شہید اور 169 زخمی ہوئے تھے۔

داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ایک جنگجو نے اجتماع کے اندر بارودی جیکٹ دھماکے سے اڑا دی۔ پولیس ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ حملہ آور نے دھماکا کرنے سے پہلے مسجد کے دروازے پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں سے بچ نکلنے کی کوشش کی تھی۔

Read Previous

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دوبارہ گرفتار

Read Next

عدالتی فیصلے کے بعد کسی کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دیں گے، وزیر داخلہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular