مکہ دفاعی معاہدہ جنگ بڑھانے یا کسی ملک سے محاذ آرائی کیلئے نہیں، ترک وزیر خارجہ

استنبول(فرنٹیئرنیوز)ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد رکن ممالک کی سلامتی کا تحفظ ہے، یہ معاہدہ جنگ میں اضافے یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ محاذ آرائی کے لیے نہیں ہے۔

ترکیہ میں مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ تینوں ممالک خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد ایک دوسرے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اس میں کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگ کو ہوا دینے کا کوئی مقصد شامل نہیں۔

ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔حاقان فیدان نے اجلاس کے دوران اعلان کیا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے دفاعی معاہدے کا نام “مکہ پیکٹ” رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

مصر کی ممکنہ شمولیت سے متعلق رائٹرز کے سوال پر ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اتحاد میں شامل ہونے کے خواہشمند کسی بھی ملک کو معاہدے کی تمام شرائط اور ضوابط پورے کرنا ہوں گے۔حاقان فیدان نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اس لیے دیگر ممالک کی شمولیت کا عمل وقت لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی ممالک کو اپنے خطے سے متعلق مسائل کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے اور مضبوط علاقائی تعاون سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مؤثر علاقائی اتحادوں کی عدم موجودگی میں سکیورٹی مسائل پیدا ہونے پر ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں، اس لیے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

حاقان فیدان نے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب سمیت ان کے پڑوسی ممالک کی سرحدیں واضح طور پر متعین ہیں، تاہم خلیج فارس اور خلیجی خطے میں بعض غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جس کے باعث علاقائی سطح پر مزید رابطے اور تعاون ضروری ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری پالیسیوں سے متعلق سوال پر حاقان فیدان نے اسرائیل پر سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ اس کی پالیسیاں نسل کشی کے مترادف ہیں۔انہوں نے مسئلے کو عالمی تشویش قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف، ان کے بقول، ’’سنگین جرائم‘‘ پر مؤثر ردعمل دے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ پر ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ تنازع عالمی امن کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ انہوں نے دونوں فریقوں سے مزید کشیدگی سے گریز کرنے اور جنگ کو وسیع ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔حاقان فیدان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کو باہمی سلامتی اور علاقائی استحکام کے مشترکہ فریم ورک میں اکٹھا کرتا ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں امن اور رکن ممالک کی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔

واضح رہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس استنبول میں ہوا۔ پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے نمائندگی کی جبکہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے سعودی وفد کی قیادت کی۔

اجلاس میں ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان، وزیر قومی دفاع یاشار گیولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوق بائراکتار اولو بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے موقع پر ترک وزیر خارجہ یاشار گولر اور وزیر دفاع خواجہ آصف کی ملاقات ہوئی ، دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون بڑھانے پراتفاق کیا۔ علاوہ ازیں ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے سعودی ہم منصب سے ملاقات کی جس میں دفاعی تعاون اوراسٹریٹجک شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مکہ دفاعی معاہدے پر ترکیے کے صدر رجب طیب ایردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا مقصد علاقائی تعاون کے نئے کلچر کو فروغ دینا بھی ہے۔

Read Previous

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے روڈ میپ کے لیے استنبول میں پہلا سہ ملکی اجلاس

Read Next

ایف آئی اے کی کارروائیاں ،انسانی سمگلنگ میں ملوث5ملزمان گرفتار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular