خیبر پختونخوا، 2 بچوں سمیت 9 افراد ڈوب گئے، ریسکیو آپریشن جاری

ٹانک(فرنٹیئرنیوز)خیبر پختونخوا میں دریاؤں میں نہانے کے دوران 2 مختلف واقعات میں باپ بیٹوں سمیت 7 افراد ڈوب گئے جبکہ تیسرے واقعے میں 2 بچے کھڑے بارانی پانی میں ڈوبنے سے جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق ٹانک میں بائی پاس کے قریب کھڑے بارانی پانی میں ڈوب کر 8 اور 10 سال کے 2 بچے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

دونوں بچے گاؤں گرہ بلوچ میں بائی پاس کے سائیڈ پر واقع میدانوں میں جمع بارانی پانی میں ڈوبے۔ افسوسناک واقعے کے بعد اہلِ خانہ غم سے نڈھال ہیں جبکہ علاقے میں بھی سوگ کی فضا ہے۔دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں ہنڈ کے مقام پر دریائے سندھ میں نہاتے ہوئے باپ اور 2 بیٹوں سمیت 5 افراد ڈوب گئے۔ریسکیو 1122 کے مطابق ڈوبنے والوں میں مردان کا 45 سالہ شکیل، اس کے 20 سالہ بیٹے شرجیل اور 16 سالہ خضر، چارسدہ کا 26 سالہ اویس اور یارحسین کا 14 سالہ مشال شامل ہیں۔

ان میں سے یارحسین کے رہائشی مشال کی لاش ریسکیو 1122 صوابی کی غوطہ خور ٹیم نے کل شام سے جاری سرچ آپریشن کے بعد دریائے سندھ سے ریکور کرلی۔ریسکیو 1122 صوابی کی غوطہ خور ٹیمیں تین مختلف مقامات، ہنڈ ہوٹلز، نبی کلی اور ایک دیگر مقام پر جدید آلات اور غوطہ خوروں کی مدد سے لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق 25 سے زائد اہلکار سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر صوابی اویس بابر اور ایمرجنسی آفیسر نعمان خان کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پانی کے تیز بہاؤ کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے تلاش جاری ہے۔

دریاؤں میں نہانے کے دوران دوسرا حادثہ چارسدہ کی تحصیل تنگی کے علاقے منڈا میں پیش آیا جہاں دریائے سوات میں نہاتے ہوئے پشاور سے آئے 2 افراد ڈوب گئے۔ریسکیو 1122 کے مطابق 22 سالہ شاہ زیب ولد اشرف کی لاش دریا سے نکال لی گئی ہے، جبکہ 17 سالہ ریحان کی لاش کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق دریائے سوات میں ڈوبنے والے دونوں نوجوانوں کا تعلق پشاور سے تھا۔ دوسری جانب چارسدہ میں دریاؤں اور دیگر مقامات پر نہانے پر دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود شہریوں کے دریا میں اترنے کے واقعات پر مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

Read Previous

آزاد کشمیر کو بھی پنجاب کی طرح بدلیں گے، نواز شریف

Read Next

پنجاب کوجنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ فعال ’’اے آئی‘‘ صوبہ بنے گا، مریم نواز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular