نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ و چیئرمین سینیٹ ہاؤس کمیٹی، سیدال خان ناصر کی زیر صدارت سینیٹ ہاؤس کمیٹی کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں پارلیمنٹ لاجز سے متعلق مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سینیٹر دانش کمار، سینیٹر ہدایت اللہ خان، سینیٹر جان محمد، سینیٹر کامل علی آغا اور سینیٹر نسیمہ احسان کے علاوہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، وزارتِ داخلہ، وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، وزارت خزانہ اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کمیٹی نے متعلقہ وزارتوں اور سی ڈی اے کے سینئر حکام کی عدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس طرزِ عمل سے پارلیمانی نگرانی کے عمل کو سنجیدگی سے نہ لینے کا تاثر ملتا ہے۔ کمیٹی نے اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیا۔
اجلاس میں معائنہ کمیٹی نے 104 نئے پارلیمنٹ لاجز کی تعمیر سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی۔ کنوینر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ تعمیراتی کام میں نمایاں پیش رفت کے دعوؤں کے برعکس دورۂ معائنہ کے دوران منصوبے کا صرف تقریباً 20 فیصد حصہ ہی عملی طور پر مکمل پایا گیا۔ رپورٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں منظور شدہ مرکزی ایئر کنڈیشننگ نظام کی جگہ علیحدہ علیحدہ ایئر کنڈیشنرز کی تنصیب، ناکافی وینٹیلیشن، چھت کے پنکھوں کی تنصیب میں ڈیزائن کی خامیاں، لاجز کے داخلی حصے میں اسٹور کی غیر موزوں جگہ اور مجموعی تعمیراتی معیار پر تحفظات شامل تھے۔
کمیٹی کے مشاہدات پر جواب دیتے ہوئے ممبر انجینئرنگ، سی ڈی اے نے بتایا کہ عمارت کا بنیادی ڈھانچہ (گریے اسٹرکچر) مکمل ہو چکا ہے جبکہ فنشنگ کا کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ درآمد شدہ لفٹس کی تنصیب ابھی باقی ہے جبکہ فرنیچر کا آرڈر پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ پارلیمنٹ لاجز کی تزئین و آرائش کے لیے ایک آرکیٹیکٹ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں، جو ایک ماڈل لاج تیار کرے گا، جہاں برقی اور دیگر متعلقہ نظاموں کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد نے نشاندہی کی کہ گزشتہ تین برسوں سے مسلسل درخواستوں کے باوجود ان کے الاٹ کردہ لاج کی مرمت کے لیے صرف علامتی فنڈز مختص کیے گئے۔ اس پر ڈائریکٹر سی ڈی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پہلے سہ ماہی کے فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں، جلد ہی ٹینڈرنگ کا عمل شروع کیا جائے گا جبکہ مرمتی کام ستمبر 2026 کے پہلے ہفتے میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے چیف پلاننگ آفیسر نے کمیٹی کو بتایا کہ 104 نئے پارلیمنٹ لاجز کے منصوبے کی مجموعی لاگت 7.1 ارب روپے ہے، جس میں سے 3.5 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ رواں مالی سال کے دوران 1.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
فارنزک آڈٹ کے معاملے پر سی ڈی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مرمت اور دیکھ بھال کے کاموں کا بیرونی فارنزک آڈٹ شروع کر دیا ہے، جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین سیدال خان ناصر نے تجویز پیش کی کہ موجودہ پارلیمنٹ لاجز اور زیر تعمیر 104 نئے لاجز دونوں کا آزادانہ فارنزک آڈٹ معروف پیشہ ور کنسلٹنسی فرم سے کرایا جائے، جس کی سربراہی سید شبر زیدی کر رہے ہیں۔ سینیٹر کامل علی آغا نے اس تجویز کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے مذکورہ فرم کو انتہائی پیشہ ور اور باصلاحیت قرار دیا۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ تعمیراتی کاموں میں شفافیت، احتساب اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے مذکورہ فرم کی خدمات حاصل کی جائیں۔
کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل، اعلیٰ ترین تعمیراتی معیار کے فروغ اور قومی وسائل کے مؤثر و شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمانی نگرانی کا عمل بھرپور انداز میں جاری رکھا جائے گا
