پاکستان اور ایران کے تعلقات دماوند اور کے ٹو کی چوٹیوں جتنے بلند ہیں: ایرانی سفیر

اسلام آباد: پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات تاریخ، تہذیب، مذہب اور مشترکہ ثقافتی ورثے پر استوار ہیں اور آج یہ تعلقات دماوند اور کے ٹو کی بلند ترین چوٹیوں کی طرح مضبوط اور ناقابلِ متزلزل ہو چکے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ ایکس‘‘ پر جاری اپنے ایک تفصیلی پیغام میں ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تاریخی تعلقات نے وقت کی ہر آزمائش کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ایران دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا، جبکہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کو تسلیم کیا، جو دونوں ممالک کے غیر معمولی تعلقات کا مظہر ہے۔

رضا امیری مقدم نے کہا کہ گزشتہ 2برسوں کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں مضبوطی آئی ہے، جس کی تمام جہتوں کا احاطہ ایک بیان میں ممکن نہیں۔

دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے ارکان ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

ایرانی سفیر نے اسرائیلی جارحیت کے پہلے روز ایران کی حمایت میں پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد کو دونوں ممالک کے تعلقات کی گہرائی کا ثبوت قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی پارلیمنٹ میں صدر کی موجودگی میں ارکان نے’’پاکستان تشکر‘‘ کے نعرے لگائے، جبکہ ایران کے عوام نے بھی سڑکوں پر ایران اور پاکستان کے پرچم ایک ساتھ لہرا کر پاکستانی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی سپریم قیادت نے بھی اپنے پہلے نوروز پیغام میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا، جو اس شراکت داری کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

رضا امیری مقدم کے مطابق گزشتہ 2 برسوں کے دوران اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں نے دونوں ممالک کی دوستی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

انہوں نے صدر مسعود پزشکیان کے پاکستان کے 2 دوروں، وزیراعظم پاکستان کے متعدد دورۂ ایران، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کئی دوروں اور دیگر اعلیٰ حکام کے تبادلوں کو اس مضبوط تعلق کی واضح مثال قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ جون 2026 میں صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد کا یادگار دورہ کیا، جہاں انہوں نے حکومت اور عوامِ پاکستان کا ایران کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔

اسی طرح ایران کے شہید سپریم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تقریب میں پاکستان کی جانب سے اعلیٰ ترین سطح کا اور اب تک کا سب سے بڑا وفد شریک ہوا، جو دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور یکجہتی کی علامت ہے۔

ایرانی سفیر نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ایران اور پاکستان کے تعلقات اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں کوئی بیرونی عنصر یا چیلنج دونوں ممالک کے درمیان محبت، دوستی اور اخوت کو کمزور نہیں کر سکتا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران کی برادرانہ دوستی پورے خطے کے لیے باہمی احترام، حسنِ ہمسائیگی، امن اور مشترکہ ترقی کی ایک مثالی مثال بنے گی۔

 

 

Read Previous

یوسف رضا گیلانی سے راجہ پرویز اشرف کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

Read Next

امریکہ کی ایران کے خلاف ناکہ بندی، سینٹ کام 35 جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular