27 ستمبر کے احتجاج میں خلل کا ذمہ دار مجھے قرار نہ دیا جائے، شیر افضل مروت

اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز) پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے میں نے تقریباً چھ ماہ قبل سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا انتخاب اور حلف برداری کے معاملے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ میری آئینی درخواست اب 14 ستمبر 2026 کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔ چونکہ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے ملک گیر احتجاج اور لانگ مارچ کی قیادت کرنے کا اعلان کیا ہے، اس لیے میں معزز عدالت سے مختصر التوا کی درخواست کر رہا ہوں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا درخواست میں بنیادی وجوہات یہ بیان کی گئی ہیں، جن میں پہلی میری آئینی درخواست مارچ کے اعلان سے تقریباً چھ ماہ پہلے دائر ہوئی تھی، تاہم اب ایسے غیر معمولی سیاسی حالات پیدا ہوچکے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

دوسرا میں سپریم کورٹ کا وکیل اور منتخب رکنِ قومی اسمبلی ہونے کی حیثیت سے اس امر کا خاص طور پر پابند ہوں کہ عدالتی کارروائی کو کسی سیاسی مقابلے میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور نہ ہی ایسا کوئی تاثر پیدا ہونے دیا جائے۔ تیسرا اگر 27 ستمبر سے فوراً پہلے اس مقدمے کی سماعت ہوتی ہے اور کوئی نتیجہ خیز حکم صادر ہوتا ہے تو یہ غیرمطلوب تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ عدالتی کارروائی سہیل آفریدی صاحب کی مارچ میں شرکت یا قیادت کو متاثر، محدود یا نقصان پہنچانے کے لیے آگے بڑھائی گئی۔

شیر افضل مروت نے کہا میرے اور فریقِ مخالف کے مابین قانونی یا سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن میں نہیں چاہتا کہ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کو میرے حاصل کردہ کسی عدالتی حکم سے منسوب کیا جائے۔ عدالتی کارروائی کو سیاسی سرگرمی کے اثرات اور تنازعات سے مکمل طور پر الگ رکھنا، عدالت کے وقار، غیرجانب داری اور منصفانہ نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔

اسی لیے میں 27 ستمبر سے پہلے نہ اپنی درخواست کی سماعت پر اصرار کروں گا اور نہ کسی عبوری یا فوری ریلیف کی استدعا کروں گا۔ میری گزارش صرف یہ ہے کہ مقدمہ 27 ستمبر کے بعد کسی مناسب تاریخ پر مقرر کردیا جائے۔ یہ درخواست میں 14 ستمبر کو معزز وفاقی آئینی عدالت کے روبرو پیش کروں گا۔ اسے منظور یا مسترد کرنا مکمل طور پر معزز عدالت کا اختیار ہے اور عدالت کا ہر حکم میرے لیے واجب الاحترام ہوگا۔

انہوں نے کہا میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور عمران خان کے چاہنے والوں پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کے لیے کسی مرحلے پر یہ عذر پیش نہ کیا جائے کہ میری قانونی کارروائی 27 ستمبر کے مارچ میں کسی خلل یا رکاوٹ کا سبب بنی۔

اگر اس سیاسی سرگرمی سے عمران خان کو کوئی سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے تو میں اپنے قانونی، ذاتی یا سیاسی اختلافات کی خاطر اسے داؤ پر نہیں لگاؤں گا۔ میں نے اس موقع پر اپنے مقدمے کی فوری سماعت پر اصرار نہ کرکے مارچ کے منتظمین کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا ہے۔ اب یہ مارچ کر پاتے ہیں یا نہیں کر پاتے

اس کی حقیقت قوم کے سامنے آجائے گی۔ یہی میرا واضح، دوٹوک اور حتمی مؤقف ہے، اسے ہی میرا مستند بیان سمجھا جائے۔

 

Read Previous

بلدیاتی انتخابات نہ کرانے، مہنگائی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ پر پیپلزپارٹی کا ن لیگ سے سخت شکوہ

Read Next

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، لاہور میں 600 سے زائد متحرک کارکنوں کی فہرستیں تیار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular