نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز) وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سنگاپور کنونشن آن میڈی ایشن پر عمل درآمد کے لیے ضروری قانون سازی اور توثیق کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس سلسلے میں قانون سازی جلد پارلیمان میں پیش کی جائے گی۔
سنگاپور کنونشن ویک 2026 سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے مئی 2025 میں سنگاپور کنونشن آن میڈی ایشن پر دستخط کرنے والے 58ویں ملک کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔
انہوں نے کہا کہ قانون سازی مکمل ہونے کے بعد پاکستان میں ثالثی کے ذریعے طے پانے والے تنازعات کے معاہدے کنونشن کے 57 دیگر دستخط کنندہ ممالک میں قابلِ نفاذ ہوں گے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو قانونی یقین دہانی کی ایک ایسی سطح حاصل ہوگی جو ماضی میں مشکل رہی ہے۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سنگاپور کنونشن سے پاکستان کی وابستگی محض ایک علامتی اقدام نہیں بلکہ ایک عملی ذریعہ ہے، جس کا مقصد مقدمہ بازی کے خطرات کو کم کرنا، تجارتی تعلقات کا تحفظ اور عالمی سرمایہ کاری برادری کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ پاکستان قانون کی حکمرانی کو محض قانونی ضابطے کے طور پر نہیں بلکہ معاشی اثاثے کے طور پر اہمیت دیتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مؤثر ثالثی کا نظام پاکستان میں کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید قابلِ اعتماد بنانے میں مدد دے گا اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے تنازعات کے تیز اور مؤثر حل کی راہ ہموار کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد ایسا مؤثر تنازعہ حل کا نظام فراہم کرنا ہے جو تجارتی تعلقات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرے۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس اہم پیش رفت میں وزارتِ قانون، حکومتِ سنگاپور اور سنگاپور انٹرنیشنل میڈی ایشن سینٹر کی جانب سے فراہم کی جانے والی رہنمائی اور تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔وفاقی وزیر نے سنگاپور کنونشن ویک 2026 کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
