ثالثی عدالت کا بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری، پن بجلی منصوبے پر کام محدود کرنے کا حکم

دی ہیگ(فرنٹیئرنیوز) عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو کشمیر کے خطے میں ہائیڈرو الیکٹرک (پن بجلی) منصوبے پر کام محدود کرنے اور پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دی ہیگ میں قائم عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے یا ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں، لہٰذا یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا جو پاکستان کے تقریباً 80 فیصد زرعی رقبے کو پانی کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔ بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں مقبوضہ کشمیر کے ایک سیاحتی مقام پہلگام پر ہونے والے حملے کو جواز بناتے ہوئے یہ معاہدہ معطل کردیا تھا، اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عالمی ثالثی عدالت کے مطابق ہمالیائی خطے میں زیرِ تعمیر پن بجلی منصوبوں کی معاہدے سے مطابقت کا فیصلہ عالمی بینک کے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر کی جانب سے کیا جائے گا، جو جولائی 2027 تک اس معاملے پر فیصلہ دے گا۔حکومت پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق دی ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے بھارت کو سندھ طاس معاہدہ برقرار رکھنے اور اس کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حکومت کے مطابق عدالت نے بھارت کے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرسکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے میں بھارت کے ہائیڈرو پاور منصوبوں، بالخصوص رتلے منصوبے سے متعلق بھی عبوری اقدامات کیے گئے ہیں۔ بھارت کو منصوبے کے بعض حصوں پر تعمیراتی سرگرمیاں محدود کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ عالمی بینک کے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر کی جانب سے منصوبے کا جائزہ لیا جائے گا۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ثالثی عدالت کے فیصلے کی تفصیلات کا بغور جائزہ لے گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے تحت دوبارہ رابطوں اور تعاون کی بحالی میں کس طرح مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

پاکستان نے ماضی میں بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مستقل قانونی فریم ورک ہے اور اس میں یکطرفہ معطلی یا خاتمے کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدے کے تحت قائم ثالثی کا طریقہ کار خود سندھ طاس معاہدے کا حصہ ہے اور عدالت کے فیصلے فریقین کے لیے حتمی اور لازم ہوتے ہیں۔

بھارت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق دی ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت کے عبوری اقدامات اور تازہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس عدالت کے وجود اور دائرۂ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا۔ واضح رہے کہ بھارت اس ثالثی عدالت کا آفیشل رکن ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق عدالت کو ’’غیر قانونی طور پر تشکیل دیا گیا‘‘ ہے اور بھارت نے کبھی سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم اس ثالثی عدالت کی کارروائی کو تسلیم نہیں کیا۔

بھارتی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا بھارت کا فیصلہ بدستور نافذ العمل ہے اور ثالثی عدالت کا فیصلہ بھارت کے اس مؤقف کو تبدیل نہیں کرتا۔رائٹرز کے مطابق یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب دی ہیگ کی عدالت نے قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ ہے اور بھارت کو معاہدے کی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، عدالت نے کشمیر میں پن بجلی منصوبوں سے متعلق بھی معاہدے کی شرائط کی پابندی پر زور دیا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی بینک کی معاونت سے طے پایا تھا، اس کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب سمیت مغربی دریاؤں کے پانی پر پاکستان کے بنیادی حقوق جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانی پر بھارت کا کنٹرول طے کیا گیا۔معاہدے میں بھارت کو مغربی دریاؤں پر محدود پیمانے پر پن بجلی پیدا کرنے کی اجازت بھی دی گئی، تاہم اس کے لیے مخصوص شرائط مقرر ہیں۔ تنازع بنیادی طور پر کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں پر ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان منصوبوں کے ڈیزائن اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے پاکستان کے حصے کے پانی کے بہاؤ پر اثر پڑ سکتا ہے جبکہ بھارت معاہدے کے تحت اپنے پن بجلی کے حق پر زور دیتا ہے، کشن گنگا منصوبے سے متعلق تنازع پہلے بھی عالمی ثالثی تک پہنچ چکا ہے۔

معاملہ اس وقت سنگین ہوا جب بھارت نے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو ’’التوا‘‘ میں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ عدالت نے بعد ازاں قرار دیا کہ بھارت کا یہ یکطرفہ مؤقف اس کے دائرۂ اختیار کو ختم نہیں کرتا۔بھارت نے اس اقدام کو پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کے الزامات سے جوڑا جبکہ پاکستان نے معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو مسترد کیا۔

اس کے بعد دی ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت میں جاری کارروائی کی قانونی حیثیت بھی تنازع کا حصہ بن گئی۔ عدالت پہلے ہی قرار دے چکی تھی کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کا فیصلہ اس کی کارروائی جاری رکھنے کی اہلیت کو ختم نہیں کرتا۔ بھارت نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے ثالثی عدالت کو غیر قانونی طور پر تشکیل دیا گیا فورم قرار دیا۔

اب 31 اگست 2026 کے تازہ فیصلے میں عدالت نے مزید واضح کیا ہے کہ اس کے مطابق سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔عدالت نے کشمیر میں پن بجلی منصوبوں پر بھی معاہدے کی شرائط کی پابندی پر زور دیا ہے جبکہ عالمی بینک کے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر کو جولائی 2027 تک منصوبوں کی معاہدے سے مطابقت کا جائزہ لینا ہے۔

 

Read Previous

عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر 130 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، علی پرویز ملک

Read Next

وزیراعظم اور ایرانی صدر کی ملاقات، علاقائی امن و استحکام کیلئے سفارتی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular