نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
کوئٹہ (فرنٹیئر نیوز) خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر سوشل میڈیا پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صورتحال اور دونوں صوبائی حکومتوں کے کردار کا موازنہ کیا جا رہا ہے، تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یہ موازنہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں صوبوں کے حالات یکسر مختلف ہیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اصل فرق حکومتوں کی جانب سے اپنی ذمہ داری قبول کرنے کا ہے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے خیبرپختونخوا میں وفاقی اقدام کی حمایت کی اور کہا کہ وفاق نے آئین کے تحت اقدام اٹھایا ہے، اس میں کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا گیا۔ آئین بنانے والے اکابرین نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ آرٹیکلز شامل کیے تھے۔سوشل میڈیا پر دونوں صوبوں کا موازنہ کیا جا رہا ہے، لیکن دہشتگردی سے نمٹنے اور حکومتی ذمہ داریاں ادا کرنے کے حوالے سے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حالات میں واضح فرق ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا اقدام صرف امن و امان کی صورتحال نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے کے تناظر میں بھی اٹھایا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کے لیے مختص فنڈز سے سوشل میڈیا ٹیم بنائی گئی، جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کو حکومتی معاونت، مؤثر قانون سازی اور دہشتگردی کے خلاف بیانیے کی تشکیل میں تعاون فراہم کرنا ضروری ہے۔بلوچستان حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس چیلنج کا مقابلہ کر رہی ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حکومت کو صرف بیانات نہیں بلکہ عملی طور پر بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔
سرفراز بگٹی نے دہشتگردی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک مخصوص جماعت کے حوالے سے سوال اٹھایا کہ اسے اب تک نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا۔وہ نہیں چاہتے کہ کسی پر حملہ ہو، تاہم ان کے بقول اس صورتحال پر سوال ضرور اٹھتا ہے
