نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے صوبے میں فوج کی تعیناتی اور صوبائی معاملات آگے بڑھانے کے لیے 11 رُکنی مشاورتی کونسل کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کے ذریعے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین، ایڈوکیٹ جنرل اور دیگر کئی آئینی عہدیداران کو فوری طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے۔
جبکہ آرٹیکل 245 کے تحت افواج پاکستان کو صوبائی حکومت (جو اب گورنر کی سربراہی میں صوبے کے معاملات سنبھالے ہوئے ہے) کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اتوار کی دوپہر اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ خیبرپختونخوا کو درپیش صورتحال اتنی خراب تھی کہ وفاقی حکومت کو آئین کے آرٹیکلز 232 (ایمرجنسی) اور 234 (گورنر راج) کا بیک وقت استعمال کرنا پڑا ہے۔
وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس انتہائی اقدام سے بچنے کے لیے گذشتہ رات گئے تک پی ٹی آئی سے رابطے کرنے کی کوششیں کی گئیں مگر انھوں نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ایک بیان میں ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ماضی کے آمریت پر مبنی اقدامات کی طرح وفاق کا یہ اقدام بھی تاریخ کے کوڑے دان میں جا گرے گا۔
پارٹی کی جانب سے ‘ایکس’ پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے (جسے بیان میں پاکستان پر ایک غیر اعلانیہ مارشل لا کے ذریعے مسلط کردہ حکومت کہا گیا ہے) عملاً خیبر پختونخوا اسمبلی کو معطل کر دیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
جبکہ گورنر خیبر پختونخوا نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون ہاتھ میں نہ لیں اور ‘اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لیا، تو قانون ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا۔
