نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد (فرنٹیئر نیوز)صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی جانب سے بھیجی گئی امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی سمری پر دستخط کردیے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں آج (اتوار کو) وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری لی گئی، اجلاس کے شرکا کو صوبے میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، امیر مقام، رانا تنویر، مصطفیٰ کمال، اعظم نذیر تارڑ، چوہدری سالک حسین ،عطا تارڑ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وزیر ممکت داخلہ طلال چوہدری سمیت دیگر اہم سیاسی و انتظامی رہنما شریک ہوئے۔
وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں، اس ضمن میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد عام شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں، پولیس، افواج پاکستان کے جوانوں، بچوں کو دہشت گرد نشانہ بنارہے ہیں، یہ انتہائی تکلیف دہ واقعات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 2 سال سے دہشت گردی ہورہی ہے، صوبے میں دہشت گردی میں ہمارے سیاستدان اور شہری شہید ہورہے ہیں، خیبرپختونخوا کی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف سی ٹی ڈی کو وسائل دینے چاہئیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 800 ارب روپے خیبر پختونخوا کو جارہے ہیں،یہ اس لئے تھا کہ اس سے پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط کریں، پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط نہیں کیا گیا ۔یہ پیسے کہاں گئے، میں اس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہ رہا۔
