نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں شروع ہو گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں ، سپیکر نے کہا کہ کل کا اجلاس بہت خوشگوار ماحول میں ہوا، آج بھی امید ہے کے تمام فریقین خوشگوار ماحول میں مذکرات کو آگے بڑھائیں گے۔سردار ایاز صادق نے حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن اراکین کا شکریہ ادا کیا۔
حکومت کی جانب سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری مذاکرات میں شریک ہیں۔پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی مذاکرات میں شریک ہیں۔
اپوزیشن کی کی نمائندگی بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ کر رہے ہیں ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گزشتہ روز مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا جس میں کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا اور آج کی بیٹھک کا اعلان کیا گیا ۔
مذاکرات میں شرکت کیلئے پہنچنے پر جنید اکبر نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں کہا کہ تحریک انصاف میں تمام لوگ مثبت ڈائیلاگ کے حق میں ہیں،یہ تاثر دیا جانا ٹھیک نہیں ہم میں سے کوئی مذاکرات کیخلاف ہے، مثبت مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکلنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کیلئے پہنچنے پر گفتگو میں خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ انہی وزراء کے بیانات نے ملک کا بہت نقصان دیا ہے، آپ 32 سال سے سیاست کر رہے ہیں خدارا ایسے بیانات نہ دیں ، خواجہ آصف اپنے بیانات پر نظر ثانی کریں، مذاکرات ناکام نہیں ہوں گے انشاء اللہ۔
مذاکرات تاخیرکاشکارنہیں ہیں،وزرا اور دیگر کچھ لوگوں کے بیانات سےمایوسی ہوئی،مذاکرات قوم،ملک اور جمہوریت کیلئےبہت ضروری ہیں، مذاکرات صوبےکی خودمختاری،مضبوط اتھارٹی کیلئےضروری ہیں، اس دوران غیرذمہ دارانہ بیانات سے مایوسی ہوئی، آج نتیجہ خیز مذاکرات ہوں گے۔
