نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف الزام تراشی دراصل وفاقی اور پنجاب حکومت کی اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔
عطاء اللہ تارڑ بتائیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس، سیکیورٹی اہلکاروں اور سیاسی کارکنوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، پھر وہ کس بنیاد پر پوری صوبائی حکومت کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دے رہے ہیں؟
پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں خیبر پختونخوا کے ایک صوبائی وزیر اسرار اللہ گنڈاپور دہشت گردی کے حملے میں شہید ہوئے۔ 16 اکتوبر 2013 کو ڈی آئی خان میں خودکش حملے میں صوبائی وزیر قانون اسرار اللہ گنڈاپور سمیت کئی افراد شہید ہوئے۔ یہ حقیقت اس الزام کی تردید کے لیے کافی ہے کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کھڑی نہیں۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں، منتخب نمائندوں، پولیس اور عام شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے شہداء کے خون کا احترام کرنا چاہیے۔عطاء اللہ تارڑ خیبر پختونخوا کے عوام کو صحت کی سہولتوں پر لیکچر دینے سے پہلے صحت کارڈ کی حقیقت دیکھیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کے غریب عوام کے لیے صحت کارڈ کا انقلابی پروگرام شروع کیا، جس کے ذریعے مستحق خاندانوں کو بڑے اور پیچیدہ امراض سمیت مختلف علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔آج بھی صحت کارڈ پلس خیبر پختونخوا کے تحت اہل مریضوں کو جگر کی پیوندکاری کی سہولت مفت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ جگر ٹرانسپلانٹ کے مکمل طریقۂ علاج اور ٹرانسپلانٹ کے بعد ایک سال کی ادویات کے اخراجات بھی پروگرام کے تحت کور کیے جاتے ہیں۔
صحت کارڈ کے ذریعے لاکھوں غریب خاندانوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنا پی ٹی آئی حکومت کا عملی کارنامہ ہے، جبکہ عطاء اللہ تارڑ صرف پریس کانفرنسوں میں الزامات کی سیاست کر رہے ہیں۔عطاء اللہ تارڑ پنجاب کی حالت زار پر بھی نظر ڈالیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی HIES 2024-25 رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 21 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ UNICEF کے مطابق پنجاب میں اسکول سے باہر بچوں کی مجموعی تعداد تقریباً 97 لاکھ ہے۔اگر خیبر پختونخوا کے بچوں اور عوام کی فکر ہے تو پہلے پنجاب کے ان لاکھوں بچوں کا جواب دیں جو آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔
پنجاب کے کسان بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں۔ حالیہ دنوں کسان اتحاد نے پنجاب حکومت کی زرعی پالیسیوں کے خلاف احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا، جبکہ کسان رہنماؤں نے زرعی شعبے کو درپیش مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔عطاء اللہ تارڑ خیبر پختونخوا کی فکر چھوڑ کر پہلے پنجاب کے کسان، پنجاب کے لاکھوں اسکول سے باہر بچے اور پنجاب کے عوام کو جواب دیں۔
وفاقی وزیر یہ بھی بتائیں کہ وفاق کے سرکاری اسپتالوں میں عوام کو درپیش مسائل کیوں ختم نہیں ہو رہے؟ پنجاب میں بھی عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی کیوں نہیں بنائی جا سکی؟خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور صوبے کے عوام و پولیس قربانیاں دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں وفاقی وزیر کا الزام تراشی کے بجائے صوبے کے ساتھ تعاون کرنا قومی ذمہ داری ہے۔
عطاء اللہ تارڑ کو یاد رکھنا چاہیے کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں، اور پی ٹی آئی اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔وزیر اطلاعات پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، وفاق اور پنجاب میں اپنی حکومتوں کی کارکردگی کا حساب دیں، پھر خیبر پختونخوا کے عوام کو لیکچر دیں۔
