پولیس نے جیل کے اندر ایمان اور ہادی پر تشدد کیا، شیریں مزاری

اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز) سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ایمان اور ہادی کی دوبارہ گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اڈیالہ جیل کے اندر بھی قیدی محفوظ نہیں رہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آج صبح اللہ کا شکر ہے کہ ایمان اور ہادی اڈیالہ جیل میں محفوظ مل گئے، تاہم جمعرات کی رات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ لیگل اڈیالہ کے دفتر سے دونوں کی دوبارہ گرفتاری کے طریقہ کار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیل کے اندر بھی قیدیوں کا تحفظ یقینی نہیں۔

الزام عائد کیا کہ اسلام آباد پولیس نے ایمان اور ہادی کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کیا، بالخصوص تھانہ شمس کالونی کے ایس ایچ او دلشان فاروقی اور خاتون پولیس افسر مصباح نے کارروائی کے دوران مبینہ طور پر تشدد کیا۔ شیریں مزاری کے مطابق خاتون پولیس افسر مصباح اس سے قبل بھی ایمان پر مبینہ تشدد کر چکی ہیں۔

شیریں مزاری نے کہا کہ گرفتاری کے وقت دونوں کو نہ ایف آئی آر دکھائی گئی اور نہ ہی بتایا گیا کہ انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے، جبکہ مبینہ غیر قانونی گرفتاری کے دوران ایمان اور ہادی زخمی بھی ہوئے۔دونوں کو تقریباً 12 گاڑیوں کے قافلے میں لے جایا جا رہا تھا، تاہم تیز رفتاری سے گاڑی چلانے والے دلشان فاروقی کی گاڑی سڑک کے کنارے سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہوگئی۔

ایمان اور ہادی کو انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں انہوں نے جیل کے احاطے میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے مبینہ تشدد سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا اور یہ سوال بھی اٹھایا کہ انہیں دوبارہ اپنے وکلا سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔ہادی کو اڈیالہ جیل میں ذیابیطس لاحق ہونے کی اطلاع بھی ملی ہے، جو ایمان اور ان کے خاندان کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ایمان اور ہادی کے معاملے میں انصاف کے بجائے انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔

Read Previous

حکمران اندھے ہو چکے، عوام کی مشکلات کا مداوا نہیں کیا جارہا،مولانا فضل الرحمان

Read Next

پی ٹی آئی جمہوری قوت، پرامن تھے، ہیں اور رہیں گے، بیرسٹر گوہر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular