نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد ( فرنٹیئرنیوز) پاکستان نے سعودی عرب کے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے
۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن کو ڈرون حملوں سے نقصان پہنچا، جس میں شہری زخمی ہوئے، سعودی عرب میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ڈرون حملے سعودی عرب کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں، ڈرون حملے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان سعودی قیادت، حکومت اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔واضح رہے گزشتہ روز سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر عراق سے ڈرون حملہ کیا گیا تھا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
سعودی عرب نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں آئل پائپ لائن پر حملوں کے بعد ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو حفاظتی اقدام کے طور پر عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا ہے۔
وزارتِ توانائی کے ایک عہدیدار نے سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ حملوں کے فوراً بعد ہنگامی اور خصوصی تکنیکی ٹیموں نے پائپ لائن کی حفاظت یقینی بنانے اور اس کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے کام شروع کر دیا ہے، کام مکمل ہونے تک پائپ لائن بند رہے گی۔ متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں منظور شدہ حفاظتی طریقہ کار اور ہنگامی منصوبوں کے تحت ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب پر ڈرون حملے کے بعد عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عراقی وزیراعظم آفس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مطابق برطرف کیے گئے کمانڈر جنوبی عراق کے صوبے میسان میں فوجی کارروائیوں کی سربراہی کر رہے تھے۔
