ایران کی عسکری حکمتِ عملی دفاع سے جارحانہ کی جانب منتقل

تہران:ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرام نیا نے کہا ہےکہ ایران کی عسکری حکمتِ عملی دفاع سے جارحانہ کی جانب منتقل ہو چکی ہے۔ ایرانی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر دشمن کے خلاف پیشگی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کو خط لکھ کر ایران کے خلاف امریکی اقتصادی دباؤ کی مذمت کرتے ہوئے اسے “اقتصادی دہشت گردی کی کارروائی” قرار دیا اور کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی ذرائع سے معلوم ہوا کہ امریکی بحریہ کے عہدہ داروں کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز “تھیوڈور روزویلٹ” اور اس پر موجود تقریباً 5 ہزار اہلکار آئندہ چند ہفتوں میں مشرق وسطیٰ روانہ کیے جائیں گے، جہاں وہ طیارہ بردار جہاز “جارج واشنگٹن” کی جگہ تعینات ہوں گے اور کم از کم 7 ماہ تک وہاں ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے قطر کے وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی سے ملاقات میں کہا کہ ایران امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا کیونکہ امریکہ بارہا سفارتی مذاکرات اور بات چیت سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کسی بھی تخریبی کارروائی کا آغاز کیا تو ایران امریکی فوجی اور اقتصادی مفادات کے لیے “تاریخی تباہی” کا باعث بنے گا۔

Read Previous

اسرائیلی فوج کو فنڈز کی کمی کا سامنا، جنگی تیاری متاثر ہونے کا اعتراف

Read Next

روس کا ایک بستی پر کنٹرول کا دعویٰ، یوکرین کی جانب سے روس کے متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاع

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular