نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نجی ہسپتالوں، میڈیکل کمپلیکس، کلینکس اور تشخیصی مراکز کو ٹیکس نظام کے ساتھ آن لائن منسلک کرنے کے لیے کارروائی تیز کرتے ہوئے عدم تعمیل پر جرمانوں کا سلسلہ شروع کر دیا، جس کے باعث ملک بھر کی نجی طبی شعبے کی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تازہ جرمانہ حکم نامے میں لاڑکانہ کے ایم ایس لطیف میڈیکل کمپلیکس پر دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور اسے فوری طور پر جرمانے کی رقم جمع کرانے کے ساتھ لازمی آن لائن انضمام کی شرائط پوری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ یہ تھا کہ فلم کو دکھانے کے دوران3 مختلف پروجیکٹروں کی ضرورت ہوتی تھی،گر ایک پروجیکٹر بھی خراب ہو جاتا تھا تو فلم بند ہو جاتی تھی
دستاویز کے مطابق ایف بی آر کے ریجنل ٹیکس آفس سکھر نے لطیف میڈیکل کمپلیکس کے خلاف انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 182(1)(33) کو دفعہ 182(2) کے ساتھ ملا کر کارروائی کی۔ حکم نامے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ طبی ادارہ ان کاروباری اداروں کے زمرے میں آتا ہے جنہیں ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ منسلک ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے حکم نامے میں ایس آر او 428(I)/2024 اور بعد ازاں ایس آر او 288(I)/2026 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نجی ہسپتالوں اور طبی مراکز، جہاں طبی مشاورت، ہسپتال میں داخلے یا دیگر متعلقہ طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں، کے لیے آن لائن انضمام کی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ فروری 2026 کے ایف بی آر نوٹیفکیشن میں طبی خدمات فراہم کرنے والے ڈاکٹرز، پیتھالوجیکل و تشخیصی لیبارٹریاں اور نجی ہسپتال و طبی مراکز کو متعلقہ دائرے میں شامل کیا گیا تھا۔
مردہ خانے سے باہر نکل آئے، راہداری پہلے جیسی نہیں تھی،دیواروں پر لگی گھڑیوں میں مختلف اوقات تھے، اس کے چہرے پر خوف نہیں صرف سوال تھا
دستاویز کے مطابق ایف بی آر کے ریکارڈ میں یہ بات سامنے آئی کہ لطیف میڈیکل کمپلیکس مقررہ مدت میں ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ منسلک نہیں ہوا۔ اس پر ادارے کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور وضاحت پیش کرنے کا موقع دیا گیا، تاہم ایف بی آر نے پیش کی گئی وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کارروائی آگے بڑھا دی۔
حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندہ لازمی انضمام کی شرط پوری کرنے میں ناکام رہا، جس پر اسے دس لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ ایف بی آر نے متعلقہ ادارے کو جرمانے کی رقم قانون کے مطابق جمع کرانے اور لازمی آن لائن انضمام کی تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ قانون کے مطابق کاروباری احاطہ سیل کرنے کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایف بی آر کی جانب سے نجی طبی شعبے کو ٹیکس نظام میں مزید دستاویزی بنانے کی کوششوں پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سمیت ڈاکٹر برادری پہلے ہی تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔ جولائی 2026 میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کے لازمی پوائنٹ آف سیل اور آن لائن انضمام کے منصوبے پر شدید اعتراضات کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کلینکس کو عام تجارتی مراکز کے طرز پر ٹیکس نظام میں شامل کرنا طبی شعبے کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ پی ایم اے کے ایک وفد نے ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال سے بھی ملاقات کی تھی۔
وہ ”رکاوٹوں“ کے خلاف تھا، اسی لئے تو اس کا ایک قدم سڑک پر ہوتا اور دوسرا بیٹھک کی دہلیز پر۔ یوں اس کی جبلت غیر شعوری طور پر رکاوٹ پھلانگ جاتی
دوسری جانب لاڑکانہ میں ایف بی آر کے دس لاکھ روپے جرمانوں کے خلاف نجی طبی مراکز کے مالکان اور ڈاکٹرز احتجاج بھی کر چکے ہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ میں متعدد نجی طبی اداروں اور کلینک چلانے والے ڈاکٹرز کو دس دس لاکھ روپے جرمانے کے نوٹس ملنے کے بعد ڈاکٹرز نے احتجاج کیا، سیاہ جھنڈے لہرائے اور سیاہ پٹیاں باندھیں۔ احتجاج میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے مقامی عہدیدار بھی شریک ہوئے۔
ایف بی آر کا مؤقف یہ ہے کہ آن لائن انضمام کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی بنانا اور آمدن و اخراجات کے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق متعلقہ ٹیکس دہندگان کو مجاز نظام کے ذریعے الیکٹرانک انوائسنگ اور متعلقہ ریکارڈنگ نظام سے منسلک ہونا ہوتا ہے۔
اس معاملے نے ملک بھر میں نجی ہسپتالوں، کلینکس، میڈیکل کمپلیکس اور تشخیصی لیبارٹریوں کے مالکان میں ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ نئی ٹیکس اور آن لائن انضمام کی شرائط پر عمل درآمد کس حد تک کیا گیا ہے اور جن اداروں نے مقررہ تقاضے پورے نہیں کیے، ان کے خلاف ایف بی آر کی کارروائی کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا۔ ایف بی آر کی جانب سے یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ مقررہ مدت میں لازمی انضمام نہ کرنے یا متعلقہ شرائط کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی اور جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
یوں ایف بی آر اور نجی طبی شعبے کے درمیان ٹیکس اور آن لائن دستاویز بندی کا تنازع اب محض نوٹسوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی جرمانوں تک پہنچ گیا ہے۔ لاڑکانہ کے لطیف میڈیکل کمپلیکس کو دس لاکھ روپے جرمانہ اور کاروباری احاطہ سیل کیے جانے کی وارننگ اس کارروائی کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ اسی طرح ننکانہ کے ہی ایک اور ڈاکٹر فہیم سومرو کو بھی 10 لاکھ روپے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے سیلز کاؤنٹر پر ایف بی ار کے انسپیکٹرز کو رسائی نہیں دی اور نہ ہی پیمنٹ کو ان لائن کیا جو وصول کر رہے ہیں۔
مریضوں سے اس حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسییشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایسے لگ رہا ہے جیسے ایف بی ار نے سندھ کو مرکز بنا لیا ہے، ہم ایف بی ار سے لڑائی نہیں چاہتے لیکن ایف بی ار بیزی ڈاکٹر سے زیادتی نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تفصیلات جمع کر رہے ہیں ہزاروں ڈاکٹروں میڈیکل کمپلیکس لماٹریوں اور کلینکس کے مالکان ڈاکٹرز کو نوٹسر جاری کیے گئے ہیں، ایف بی ار کی طرف سے خوف و ہراس بنایا گیا ہے اور 10، 10 لاکھ روپے جرمانے بھی کیے جا رہے ہیں جو خلاف قانون ہے، وزیراعظم، چیئرمین ایف بی ار کی ان کارروائیوں کا نوٹس لیں، اس سے غریب مریض پر بوجھ پڑے گا، ڈاکٹر ٹیکس اپنی جیب سے نہیں دے گا بلکہ وہ مریضوں سے وصولی کرے گا، اس کے خلاف ہم نے 11 اکتوبر کو گجرات میں ڈاکٹرز کنونشن طلب کر لیا ہے، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
