نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
پشاور(فرنٹیئرنیوز)خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شفیع جان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کا آج ساتواں دن ہے، قافلے چارسدہ میں موجود ہیں جہاں سے آج مردان روانگی ہوگی اور رات وہیں قیام کیا جائے گا۔
ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ آج رات کا پڑاؤ مردان میں ہوگا جس کے بعد کل پورے پاکستان سے قافلے صوابی جمع ہوں گے جہاں ٹینٹ سٹی آباد کیا جارہا ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ 13 اکتوبر کو سہیل آفریدی آگلا لائحہ عمل دینگے جبکہ 14 اکتوبر کو صوابی سے آگے کی طرف پیش قدمی کی جائے گی۔
اس سے قبل چارسدہ کے شبقدر چوک میں مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ “کل پورے پاکستان سے پارلیمینٹیرینز اور تنظیمی عہدیدار ورکرز کو صوابی انٹرچینج تک پہنچائیں۔”
یاد رہے کہ گزشتہ روز ہی گورنر خیبرپختونخوا نے پی ٹی آئی مظاہرین کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “یہ صوابی کی طرف منہ تو کریں، انہیں لگ پتا جائے گا۔”
ادھر حکومت اور اپوزیشن کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے مولانا فضل الرحمان فریقین کے درمیان ‘افہام و تفہیم’ سے معاملات حل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز ان کیساتھ گفتگو میں ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سیاسی طریقے سے مسائل حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر چکی ہے اور مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے، تاہم اپوزیشن کو وفاقی ارالحکومت کی جانب پیش قدمی سے گریز کرنا چاہیے۔
اس سے قبل لانگ مارچ ملتوی کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے پی ٹی آئی کے ساتھ 2 اور 3 اکتوبر کو مذاکرات کے متعدد ادوار ہوئے تاہم فریقین کے مابین معاہدے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس پر پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی سمیت متعدد دیگر مطالبات کے حق میں لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کیا تھا۔
لکی مروت سے قافلے کرک، کوہاٹ، متنی،خیبراور پشاور سے ہوتے ہوئے چارسدہ پہنچے جس کے بعد شرکا مردان، صوابی اور ملاکنڈ کی طرف روانہ ہونگے۔
لانگ مارچ کے دوسرے دن وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو پیشکش کی تھی کہ اگر پارٹی اپنا احتجاج ختم کر دے تو حکومت دوبارہ مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔ تاہم اس ‘آفر’ کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات سے انکاری نہیں ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ مذاکرات ‘غیر مشروط’ ہوں۔
اپنے خطاب میں سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ عمران خان کے دور حکومت 2018 سے 2022 تک خیبرپختونخوا میں امن اور خوشحالی تھی، پاکستان کے تمام معاشی اشاریے مثبت تھے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ بند کمروں میں فیصلے کرکے رجیم چینج آپریشن کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا سفر روک دیا گیا، بیرونی سازش کاروں اور اندرونی غداروں نے مل کر پاکستان کو ترقی کے راستے سے ہٹایا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے سابقہ چار سالہ حکومتی کارکردگی اور رجیم چینج آپریشن کے اثرات عوام کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غربت کی شرح 48 فیصد تک پہنچ چکی ہے،گورننس انڈیکس میں 120 ممالک میں پاکستان کا نمبر 109 ہے۔
سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کم ہوکر 2.2 فیصد رہ گئی ہے، مہنگائی کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے، افغانستان کو ناتجربہ کار کہنے والے جان لیں کہ وہاں مہنگائی کی شرح صرف 16 فیصد ہے، رجیم چینج آپریشن کے بعد پاکستان کے تمام معاشی اشاریے منفی سمت میں جا رہے ہیں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اہم فیصلے کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں آج اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق اجلاس میں تمام متعلقہ شراکت دار شرکت کریں گے اور صوبے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاری کر لی گئی ہے جبکہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ دہشتگردی کیخلاف وفاق کیساتھ ہونے کی بات کریں تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔
اسی تناظر میں جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے حوالے سے غور و خوض مکمل ہو گیا ہے، ایمرجنسی 12 اضلاع میں نہیں، پورے صوبے میں لگے گی۔
