نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
نیویارک(فرنٹیئرنیوز)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمن کی صورتِ حال پر ماہانہ بریفنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہ مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس کی اسٹریٹیجک، پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے تحت پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور اسے اپنے عوام، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں، تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات، تعز اور باب المندب کے اطراف لڑائی اور بگڑتے انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کیا اور ان حملوں کی فوری بندش کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ کی حرمت اور سلامتی کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مکہ مکرمہ گورنریٹ میں بنیادی انفراسٹرکچر اور مدینہ منورہ میں بجلی کے گرڈ اسٹینشن کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ پاکستان اس سے قبل ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کی بھی مذمت کر چکا ہے، جن میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ایسے حملے علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ اس کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یمن کے مغربی ساحل اور باب المندب کے اطراف حوثیوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں کمرشل شپنگ کے تحفظ کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔ حوثیوں کو تجارتی جہازوں پر حملے بند کرنے چاہییں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آزادانہ شپنگ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اہم بحری راستوں کو ملاحوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے، تجارت میں خلل پیدا کرنے والے اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھانے والے حملوں کے خطرے سے دوچار نہیں رہنا چاہیے۔
۔عاصم افتخار احمد نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی روکنے، رابطے برقرار رکھنے اور لڑائی بند کرانے کے لیے تمام سفارتی ذرائع استعمال کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کا مقصد اقوام متحدہ کی سرپرستی میں یمن میں ایک قابلِ اعتماد اور جامع سیاسی عمل کی بحالی ہونا چاہیے، جس کی قیادت بھی یمنی عوام کے پاس ہو۔
پاکستانی مندوب نے تعز کے اطراف تازہ لڑائی اور عدن ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے شہری آبادی اور بنیادی سہولتوں کو لاحق خطرات مزید واضح ہوتے ہیں۔
انہوں نے انسانی امداد کی محفوظ، تیز رفتار اور بلا رکاوٹ فراہمی، شہری تنصیبات کے تحفظ اور امدادی کارروائیوں کے لیے مناسب مالی وسائل کی دستیابی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت مند افراد تک خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری تجارتی سامان پہنچنا چاہیے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ، انسانی امداد اور سفارتی مشنز سے وابستہ حراست میں لیے گئے اہلکاروں کی فوری، غیرمشروط اور محفوظ رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
خطاب کے اختتام پر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل کو اتحاد اور مشترکہ عزم کے ساتھ حوثی حملے رکوانے، علاقائی سلامتی یقینی بنانے، انسانی مصائب کم کرنے اور سیاسی تصفیے کی جانب قابلِ اعتماد راستہ بحال کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان یمنی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور پُرامن، مستحکم اور متحد یمن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
