خیبر پختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں، دہشت گردی ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد(فرنٹیئرنیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ریاست اور خیبرپختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، گزشتہ 2 سال کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے 6 ہزار 200 واقعات ہوئے، جن میں ایک ہزار 200 افراد شہید ہوئے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ خیبر پختونخوا میں 2 سال کے دوران افغان شہریوں نے 37 خودکش حملے کیے، جبکہ رواں سال اب تک 14 خودکش حملے ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی مجموعی نفری تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار ہے، تاہم 13 ہزار پولیس اہلکار وی آئی پی پروٹوکول پر تعینات ہیں، جبکہ پولیس کی 17 ہزار آسامیاں آج بھی خالی ہیں۔

خواجہ آصف نے سکیورٹی پر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم ضم شدہ اضلاع میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا نظام تقریباً غیر فعال ہے۔انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں اور 3 ہزار 300 اہلکار ہیں، جبکہ صرف 25 اہلکار مستقل اور باقی کنٹریکٹ ملازمین ہیں۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پولیس ایکٹ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرکے پولیس کی استعداد متاثر کی گئی۔ جبکہ پولیس چوکیوں کی تعمیر اور مضبوطی کے لیے 42 ارب روپے مانگے گئے تھے، لیکن خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس چوکیوں کے لیے صرف ایک ارب 20 کروڑ روپے جاری کیے۔

انہوں نے کہا کہ رقم جاری نہ ہونے کے باعث روزانہ لوگ جانیں گنوا رہے ہیں۔ کاغذات میں 42 ارب روپے خرچ کرنے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ حقیقت میں رقم ہڑپ کرلی گئی۔

 

Read Previous

سہیل آفریدی اور مذاکراتی کمیٹی ایک ہی پیج پر ہیں، سلمان اکرم راجا

Read Next

ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیشگوئی،کہاں کہاں بادل برسیں گے ، تفصیلات پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular